میتھیو ملر کا اعتراف — "امریکہ غزہ میں ہلاکتوں کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کر سکتا تھا”
دانشگاه (ویب نیوز) واشنگٹن :
امریکی محکمہ خارجہ کے سابق ترجمان میتھیو ملر نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں اپنی فوجی کارروائیوں کے دوران یقینی طور پر جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ان ہلاکتوں کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
ملر نے پیر کے روز اسکائی نیوز کے "ٹرمپ 100” پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں "کسی شک کے بغیر” یقین ہے کہ فلسطینی علاقے غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ میتھیو ملر رواں سال تک صدر جو بائیڈن کی اسرائیل نواز پالیسیوں کا دفاع کرتے رہے ہیں۔ تاہم، اب انہوں نے یہ واضح کیا کہ ان کے نزدیک اسرائیل کی جانب سے نسل کشی نہیں کی جا رہی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ بائیڈن انتظامیہ کے اندر اسرائیل سے متعلق امریکی پالیسی پر اختلافِ رائے موجود تھا، اور کئی مواقع پر زیادہ دباؤ ڈالنے میں ناکامی پر تنقید کی جاتی رہی۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اب تک کم از کم 54,381 فلسطینی جاں بحق اور 124,054 زخمی ہو چکے ہیں۔ تقریباً 23 لاکھ کی پوری آبادی بے گھر ہو چکی ہے، جبکہ اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث قحط کا شدید خطرہ منڈلا رہا ہے۔
بطور ترجمان، ملر کو بارہا ایسے صحافیوں کے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا، جو اسرائیل کی جانب سے اسپتالوں، پناہ گزین کیمپوں اور شہری آبادیوں پر بمباری، نیز امریکی فوجی امداد کی فراہمی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی جیسے معاملات پر امریکہ کے مؤقف پر تنقید کرتے تھے۔
ایک موقع پر، نومبر 2024 میں، وہ اس وقت شدید تنقید کی زد میں آئے جب غزہ کو امداد کی فراہمی روکنے سے متعلق سوال کے دوران وہ ہنستے ہوئے دیکھے گئے۔
تاہم، حالیہ انٹرویو میں ملر نے واضح کیا کہ بطور ترجمان وہ ذاتی رائے کا اظہار نہیں کرتے تھے بلکہ انتظامیہ کے مؤقف کی نمائندگی ان کا فرض تھا۔
"آپ صدر اور انتظامیہ کے ترجمان ہوتے ہیں، اور آپ انہی کے مؤقف کی نمائندگی کرتے ہیں،” ملر نے کہا۔ "جب آپ انتظامیہ کا حصہ نہیں ہوتے، تب آپ اپنی ذاتی رائے دے سکتے ہیں۔”

