منگل, فروری 17, 2026
ہومپاکستانسرکاری ملازمین کیلئے بجٹ اعزازیہ کی منظوری، فنانس منسٹر کو مکمل اختیار

سرکاری ملازمین کیلئے بجٹ اعزازیہ کی منظوری، فنانس منسٹر کو مکمل اختیار
س

ای سی سی نے نئی پالیسی کی منظوری دے دی، اعزازیہ پر کم شرح ٹیکس لاگو ہو گا

دانشگاه (نیوز ڈیسک) اسلام آباد:
وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پیر کو سرکاری ملازمین کے لیے نئی اعزازیہ پالیسی کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت وزیر خزانہ کو اقتصادی وزارتوں، پارلیمنٹ اور وزیر اعظم آفس کے ملازمین کو بجٹ اعزازیہ دینے کا مکمل اختیار حاصل ہو گا۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں وزارت خزانہ کی جانب سے پیش کردہ سمری منظور کی گئی، جس میں ملازمین کو اعزازیہ دینے کے لیے واضح پالیسی مرتب کی گئی ہے۔ نئی پالیسی کے مطابق، وزیر خزانہ ہر مالی سال کے لیے بجٹ اعزازیہ کی مقدار کا تعین خود کریں گے، اور اس پر کسی بالائی حد کا اطلاق نہیں ہو گا۔

اس کے علاوہ، ان اعزازیہ جات پر لاگو ٹیکس کی شرح عام آمدن سے کم ہو گی۔ نئی پالیسی کے مطابق ان اعزازیہ جات پر وہی ٹیکس لاگو ہو گا جو مونیٹائزیشن الاؤنس پر نافذ ہے، یعنی صرف 5 فیصد۔ گریڈ 20 تا 22 کے افسران کے لیے لازمی ٹرانسپورٹ مونیٹائزیشن اسکیم کے تحت بھی یہی ٹیکس شرح مقرر ہے۔

اس حوالے سے ایکسپریس ٹریبیون کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ اعزازیہ کی منظوری ہمیشہ ای سی سی کے چیئرمین یعنی وزیر خزانہ کے اختیار میں رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ کی تیاری میں شامل وزارتوں کے ساتھ قریبی کام کرنے کی وجہ سے وزیر خزانہ ہی بہتر طور پر محنت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ اختیارات دراصل ہر وزارت کی سفارشات، متعلقہ اعزازیہ کمیٹیوں اور پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسرز (PAOs) کی سفارش پر مشروط ہوتے ہیں۔

پالیسی کے تحت، فی الحال صرف گریڈ 18 تک کے افسران کو سال میں ایک اعزازیہ دیا جا سکتا ہے، جبکہ گریڈ 19 اور اس سے اوپر کے افسران کے لیے ای سی سی چیئرمین کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ نئی پالیسی کے مطابق، اب ہر وفاقی سیکریٹری تمام ملازمین کو ایک اعزازیہ دے سکے گا، سوائے اپنے۔

مزید برآں، اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے ملازمین کو "پرفارمنس اعزازیہ” دینے کی نئی کیٹیگری متعارف کرائی گئی ہے۔ ہر وزارت کے صرف 25 فیصد ملازمین کو ان کی کارکردگی پر ایک بنیادی تنخواہ کے برابر اعزازیہ دیا جا سکے گا، تاہم یہ اعزازیہ صرف ان ملازمین کو دیا جائے گا جنہوں نے متعلقہ وزارت میں کم از کم چھ ماہ کام کیا ہو۔

نئی پالیسی کے تحت تمام اعزازیہ جات صرف پے رول کے ذریعے ادا کیے جائیں گے، نقد ادائیگی کی اجازت نہیں ہو گی۔ مذہبی تہواروں جیسے عید یا کرسمس کے موقع پر اعزازیہ کی کوئی الگ منظوری نہیں دی جائے گی۔ بجٹ اعزازیہ لینے والے ملازمین عام یا پرفارمنس اعزازیہ کے اہل نہیں ہوں گے، اور اگر کسی ملازم کو پہلے کوئی اعزازیہ مل چکا ہو، تو بجٹ اعزازیہ اس کے برابر ایڈجسٹ کیا جائے گا۔

ای سی سی کے اجلاس میں دیگر اہم منظوریوں میں 61.2 ارب روپے کے اضافی فنڈز شامل تھے، جن میں 1.7 ارب روپے وزارت دفاع کے لیے آئی ایس پی آر کی ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن، 1.3 ارب روپے سندھ حکومت کو گندم بیج ری ایمبرسمنٹ کے غیر استعمال شدہ فنڈز کی واپسی، اور 40.3 ارب روپے غیر ملکی قلیل مدتی قرضوں کی ادائیگی کے لیے اقتصادی امور ڈویژن کو دیے گئے۔

اس کے علاوہ، 1,145 میگا واٹ کے کراچی نیوکلیئر پلانٹ K-2 اور K-3 کے لیے پاور پرچیز معاہدے کی منظوری، اور دفاعی پیداوار کے اداروں کے لیے درآمدی پالیسی آرڈر میں ترمیم بھی منظور کی گئی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین