دانشگاہ (مانیٹرنگ ڈیسک) تہران: ایرانی زمینی افواج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل کیومرث حیدری نے اتوار کے روز ایک تقریب میں اعلان کیا کہ ایران نے اپنی امن قائم کرنے والی خصوصی یونٹ کے تحت 21 فوجی افسران کو افریقہ کے چار ممالک، اریٹریا، ایتھوپیا، سوڈان، اور مالی میں بین الاقوامی قیامِ امن کے مشنز کے لیے تعینات کیا ہے۔
جنرل حیدری نے بتایا کہ یہ افسران اقوامِ متحدہ کے تازہ ترین ضوابط کے مطابق تربیت یافتہ اور لیس امن یونٹ کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایسی امن قائم رکھنے والی یونٹیں تشکیل دی ہیں جو جدید ترین تربیتی، ساز و سامان اور عملیاتی معیارات سے آراستہ ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی افواج بین الاقوامی کارروائیوں میں پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ حصہ لینے کے لیے پُرعزم ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایرانی زمینی افواج کے 40 اعلیٰ درجے کے افسران نے سوئٹزرلینڈ، اٹلی، ترکی اور بھارت میں اقوامِ متحدہ کے معیارات پر مبنی قیام امن کے کورسز مکمل کیے ہیں، جو ایران کی عالمی سطح پر امن مشنز میں وسیع تر شرکت کے لیے حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ جنرل حیدری کا کہنا ہے کہ اب تک 21 افسران اریٹریا، ایتھوپیا، سوڈان، اور مالی میں فیلڈ آپریشنز میں حصہ لے چکے ہیں۔ انہوں نے نظم و ضبط اور مہارت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیے ہیں، جو عالمی سطح پر ایرانی فوج کی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کی امن فورس نہ صرف انفرادی طور پر بلکہ ایک منظم بٹالین کی صورت میں بھی اقوامِ متحدہ کی درخواست پر تعیناتی کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری امن فورسز متعین شدہ ممالک میں انفرادی افسران یا منظم یونٹ کی حیثیت سے تعیناتی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
جنرل حیدری نے واضح کیا کہ ایرانی زمینی افواج ایک تربیت یافتہ، پیشہ ور اور پُرعزم ادارہ ہے جو بین الاقوامی قانون کے دائرے میں قیامِ امن کی کارروائیوں میں بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری امن کی سوچ صرف جنگ سے اجتناب پر مبنی نہیں بلکہ استحکام، انصاف اور اقوام کی خوشحالی کے فروغ پر مبنی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک پیشہ ور اور عوام دوست فوج وہ امن لا سکتی ہے جو طاقتور، اخلاقی اور مؤثر ہو۔ ایرانی زمینی افواج، جو مذہبی تعلیمات، آئین اور دفاعی نظریے کی رہنمائی میں کام کرتی ہے، خود کو قومی سلامتی کی محافظ اور علاقائی امن کی داعی سمجھتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار امن صرف انصاف، قومی خودمختاری کے احترام اور جارحیت کے خلاف مزاحمت سے ممکن ہے۔ امن کا مطلب دھمکیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنا نہیں بلکہ عدم استحکام کے اسباب کو ختم کرنا، انتہاء پسندی و دہشت گردی کا مقابلہ کرنا، مظلوم اقوام کی حمایت کرنا اور بحران زدہ علاقوں میں قانونی قومی اداروں کو مضبوط بنانا ہے۔
جنرل حیدری نے بتایا کہ ایران کا قیامِ امن میں تعاون صرف جنگی یونٹوں تک محدود نہیں بلکہ طبی ٹیموں، تربیت کاروں، ڈرون آپریٹرز اور تکنیکی ماہرین پر بھی مشتمل ہو سکتا ہے، جو جنگ سے متاثرہ علاقوں میں امن بحال کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات ایران کی افواج کو مہارتوں کا تبادلہ کرنے، عملی تیاری کو بہتر بنانے اور عالمی برادری کے سامنے اپنی افواج کا حقیقت پسندانہ اور انسانی رخ پیش کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری موجودگی صرف عسکری نہیں بلکہ ثقافتی، اخلاقی اور انسانی بنیادوں پر امن اور دوستی کی مثال ہے، جو طاقت کے ساتھ ساتھ ہے۔ آخر میں جنرل حیدری نے اعلان کیا کہ ایرانی زمینی افواج نے دوسرے بین الاقوامی امن کورس کی میزبانی کے لیے باضابطہ طور پر اپنی آمادگی کا اعلان کر دیا ہے، جس میں مختلف ممالک کے فوجی نمائندے شرکت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تجویز کو وزارت خارجہ کو پیش کر دی گئی ہے اور یہ فوج اور مسلح افواج کی جنرل اسٹاف کی منظوری کے بعد کیا گیا ہے۔ جنرل حیدری نے امید ظاہر کی کہ ایرانی فوج کی حمایت سے منعقد ہونے والا یہ پروگرام دفاعی سفارت کاری کو فروغ دینے اور امن مشنز کی تربیت میں بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں سنگ میل ثابت ہوگا۔

