دانشگاه (ویب ڈیسک) ایران: عمان مشترکہ چیمبر آف کامرس کے سربراہ جمال رزاقی جہرمی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دورۂ مسقط کو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔
اتوار کے روز ایرانی خبررساں ایجنسی (IRNA) کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں رزاقی جہرمی نے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان سالانہ 20 ارب ڈالر تجارتی حجم کا ہدف مقرر کرنا صدر پزشکین کے حالیہ دورے کا ایک اہم اور نمایاں نتیجہ ہے۔ اس دورے میں 90 نجی شعبے کے کاروباری افراد پر مشتمل ایک وفد بھی شامل تھا۔
انہوں نے بتایا کہ صدر کے دورے کے پہلے ہی دن ایک مشترکہ سرمایہ کاری کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں عمان کے وزیر تجارت، صنعت اور سرمایہ کاری کے فروغ نے شرکت کی، جبکہ ایرانی و عمانی تاجروں کے درمیان باہمی ملاقاتیں بھی ہوئیں۔
رزاقی جہرمی کے مطابق صدر پزشکین، ان کے وزراء اور مرکزی بینک کے گورنر نے عمان کے اعلیٰ حکام سے الگ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں مختلف اقتصادی مسائل اور چیلنجز زیر بحث آئے۔ ایران اور عمان کے دیرینہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے موجودہ تجارتی سطح پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان تجارتی حجم خلیجی ممالک کے ساتھ ایران کی تجارت کے صرف آٹھویں حصے کے برابر ہے۔
تاہم انہوں نے اس دورے کے دوران ہونے والے اہم معاہدوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے عمان میں ایک مشترکہ مالیاتی ادارہ قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ بین الاقوامی مالی لین دین اور ترسیلات زر کے مسائل حل کیے جا سکیں۔ انہوں نے تجارت کے فروغ کے لیے دیگر اقدامات کی طرف بھی اشارہ کیا، جن میں چابہار اور عمان کے درمیان براہ راست بحری تجارتی راہداری کا قیام اور تجارتی محصولات میں کمی شامل ہے۔
صدر پزشکیان نے مسقط میں اپنے قیام کے دوران 18 دوطرفہ تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے اور عمان کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں، جن میں سلطان ہیثم بن طارق آل سعید، نائب وزیراعظم فہد بن محمود آل سعید اور وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعدی شامل تھے۔

