دانشگاہ (مانیٹرنگ ڈیسک) کاراکاس: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران اور وینزویلا تمام شعبوں میں باہمی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہیں اور دوطرفہ تجارت میں ڈالر کے بجائے قومی کرنسیوں اور BRICS Pay نظام کو اپنانے کی ضرورت ہے۔
یہ بات انہوں نے اتوار کے روز کاراکاس میں ایرانی اور وینزویلا کے تاجروں اور نجی شعبے کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران کہی۔ قالیباف تین لاطینی امریکی ممالک کے دورے کے پہلے مرحلے پر وینزویلا میں موجود ہیں، جہاں سے وہ کیوبا اور برازیل بھی جائیں گے تاکہ BRICS پارلیمانی فورم میں شرکت کر سکیں۔
انہوں نے ایران اور وینزویلا کے مشترکہ بینک اور مالیاتی نظام سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی کرنسیاں اور BRICS Pay نظام، جو کہ SWIFT کے متبادل کے طور پر تجویز کیا گیا ہے، دوطرفہ تجارت میں دیگر کرنسیوں کی جگہ لے سکتے ہیں۔
قالیباف نے کہا کہ ایرانی اور وینزویلا کے تاجر ان "دشمنوں” کی اقتصادی جنگ کے “کمانڈر” ہیں جو دونوں ممالک کے خلاف سرگرم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا اسلامی جمہوریہ ایران کی قطعی پالیسی ایران اور وینزویلا کے تعلقات کو فروغ دینا ہے۔
قالیباف نے طویل المدتی اسٹریٹیجک معاہدوں پر عملدرآمد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ ممالک جن کے مفادات، دوست اور دشمن مشترک ہوں، زیادہ ہم آہنگ انداز میں پیش رفت کر سکتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ باہمی تعلقات کو وسعت دینا مواقع اور خطرات سے نمٹنے میں معاون ہو سکتا ہے۔ ایران اور وینزویلا کے درمیان OPEC، تیل اور توانائی جیسے شعبوں میں وسیع تر مشترکہ مفادات پائے جاتے ہیں، جن سے مشکلات کے باوجود فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے جغرافیائی مواقع کو استعمال کرتے ہوئے دونوں ممالک کی منفرد صلاحیتوں کو بروئے کار لانے پر زور دیا۔ قالیباف نے نجی شعبے کے درمیان تجارت کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ کام طویل مدتی حکمتِ عملی کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور وینزویلا کے عوام کے تعلقات “طلب اور رسد” پر مبنی ہیں، جو زیادہ پائیدار، اقتصادی اور منطقی بنیاد رکھتے ہیں۔ انہوں نے آزاد تجارت کے نفاذ اور بینکاری رکاؤٹوں کے خاتمے کو ایرانی حکومت اور پارلیمنٹ کے ایجنڈے کے اہم نکات قرار دیا۔
یاد رہے کہ ایران اور وینزویلا دونوں ہی امریکہ کی غیر قانونی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان دونون ممالک نے جون 2022 میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے دورۂ تہران کے دوران 20 سالہ شراکت داری کا معاہدہ کیا تھا۔ یہ معاہدہ تیل، پیٹرو کیمیکل، دفاع، زراعت، سیاحت اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ وینزویلا کی ریفائنریوں کی مرمت اور تکنیکی و انجینئرنگ خدمات کی برآمد بھی اس میں شامل ہے۔

