دانشگاہ (مانیٹرنگ ڈیسک) یمن: عسکری امور کے ماہر علی ابی ردّ نے تصدیق کی ہے کہ یمن نے ان بازدارانہ (deterrence) تصورات کو مؤثر طور پر ناکام بنا دیا ہے، جن پر دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے امریکہ اور اسرائیل کا عسکری بیانیہ قائم تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یمن دنیا کا واحد ملک ہے جس نے دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکی بحریہ کے خلاف واضح کامیابی حاصل کی ہے۔
ابی ردّ کے مطابق اسرائیل اور امریکہ دونوں بخوبی واقف ہیں کہ یمن کی مسلسل بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیتیں ان کے لیے کتنا سنجیدہ خطرہ بن چکی ہیں۔ انہوں نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ یمن کے صدر مہدی المشاط کے اس بیان میں صداقت ہے کہ یمنی فضائی دفاع اسرائیلی طیارے گرانے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے، اور یمنی دفاعی ترقی سے متعلق سرکاری بیانات اسی حقیقت کی غمازی کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ یمن کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جن میں متعدد وارہیڈز نصب ہیں، جو نہ صرف اپنے ہدف کو اعلیٰ درستی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو مفلوج کرنے کی غیرمعمولی قابلیت بھی رکھتے ہیں۔ ابی ردّ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ یمن کی عسکری و دفاعی صنعتیں مکمل طور پر مقامی انجینیئروں نے تیار کی ہیں، جو امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایک مسلسل اور غیر متوقع چیلنج بن چکی ہیں۔
ان کے مطابق عسکری قوت کے لحاظ سے بڑے عدم توازن کے باوجود یمن نے امریکہ-اسرائیل کی مشترکہ بازدار حکمتِ عملی کو توڑ دیا ہے، جو ان قوتوں کی طویل عرصے سے قائم برتری کو ایک واضح شکست ہے۔ انہوں نے اس حکمتِ عملی کے چار بنیادی عناصر کا تجزیہ بھی پیش کیا۔
1. دشمن ریاستوں سے ٹکرانے کا حقیقی عزم،
2. وارننگ دینا،
3. دھمکیوں پر عملدرآمد،
4. اور مسلسل کامیابیاں حاصل کرتے رہنا۔
یمن کی مزاحمتی طاقت نے ان تمام مراحل کو بخوبی عملی شکل دی ہے، جس سے طاقت کا توازن تبدیل ہو چکا ہے، اور یہ ثابت ہو گیا ہے کہ یمنی مزاحمت نہ تو روکی جا سکتی ہے، نہ جھکائی جا سکتی ہے، اور یہ بڑی سے بڑی عسکری طاقت کو بھی بے بس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اکتوبر 2023 میں اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جارحیت کے آغاز کے بعد سے یمن کی مسلح افواج نے فلسطینی عوام کی حمایت میں عسکری کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ ان کارروائیوں میں "فتحِ موعود اور مقدس جہاد” کے عنوان کے تحت میزائل و ڈرون حملے، اور اسرائیلی مفادات سے جڑی بحری و فضائی ناکہ بندیاں شامل ہیں، جن کا مقصد اسرائیل پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ اپنی جارحیت ختم کرے اور غزہ کا محاصرہ ختم کرے۔

