منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیاسرائیل میں کام بند کریں یا نتائج بھگتیں، صدر المشاط

اسرائیل میں کام بند کریں یا نتائج بھگتیں، صدر المشاط
ا

دانشگاہ (نیوز ڈیسک) مشرق وسطیٰ: یمن کے صدر مہدی المشاط نے اسرائیلی حدود میں کام کرنے والی تمام غیرملکی کمپنیوں کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یمن کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لیں اور فوری طور پر اسرائیل سے اپنا انخلا مکمل کریں، کیونکہ وہاں کا ماحول اب مزید غیر محفوظ ہوتا جا رہا ہے۔

یمنی خبر رساں ایجنسی ’سبا‘ کو دیئے گئے بیان میں صدر المشاط نے واضح کیا کہ اگر کوئی کمپنی اس وارننگ کے باوجود اسرائیل میں اپنا کام جاری رکھتی ہے تو کسی بھی قسم کے مالی و جانی نقصان کی مکمل ذمہ داری اسی کمپنی پر عائد ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم آئندہ دنوں میں مزید اقدامات اٹھا سکتے ہیں، جو صیہونی ریاست کے اندر کام کرنے والی سرمایہ کاری کمپنیوں کو حقیقی اور سنگین خطرے میں ڈال دیں گے۔

صدر المشاط نے متنبہ کیا کہ یمنی وارننگ کو نظرانداز کرنے والی کمپنیاں اپنی سرمایہ کاری کو ایک خطرناک جوا بنا رہی ہیں، جو ممکنہ طور پر بھاری قیمت کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سیاسی بقا کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی داؤ پر لگا رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک ایسی حکومت جو اپنے ہی قیدیوں کی جانوں کی پروا نہیں کرتی، وہ غیر ملکی کمپنیوں اور ان کی سرمایہ کاری کی حفاظت کو کیوں اہمیت دے گی؟

صدر المشاط نے مزید کہا کہ متعلقہ یمنی اداروں کو ہدایت دی جائے گی کہ وہ ان کمپنیوں کے انخلا کے لیے ایک مخصوص مدت مقرر کریں، تاکہ بڑے پیمانے پر نقصانات سے بچا جا سکے اور اسرائیلی حکومت کی جارحانہ پالیسیوں کے اثرات سے دوسروں کو بچایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یمن کی مسلح افواج نے اپنے اگلے مرحلے کے اقدامات کا آغاز کیا، تو ان کمپنیوں کو صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ خطے اور دنیا بھر میں اپنے کاروباری مفادات پر بھی شدید اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اکتوبر 2023 میں اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جارحیت کے آغاز کے بعد یمنی مسلح افواج فلسطینی عوام کی حمایت میں مسلسل عسکری کارروائیاں کر رہی ہیں۔ ان میں میزائل و ڈرون حملے، بحری و فضائی ناکہ بندیاں شامل ہیں، جن کا مقصد اسرائیل پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ اپنی جارحیت ختم کرے اور غزہ کا محاصرہ ختم کرے۔

ان کارروائیوں کا آغاز بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو متاثر کرنے سے ہوا، جو اب ایلات بندرگاہ اور لوڈ ایئرپورٹ جیسے اسرائیل کے اہم معاشی مراکز تک پھیل چکا ہے۔ یہ تمام کارروائیاں یمن کی اُس واضح پالیسی کا حصہ ہیں جس کا مقصد اسرائیل کو جنگ سے روکنا اور غزہ کے محاصرے کو ختم کروانا ہے۔ ان حملوں نے عالمی سطح پر بحری تجارت، سیاحت اور فضائی سفر کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں درجنوں عالمی ایئر لائنز نے اسرائیلی ایئرپورٹس کے لیے پروازیں معطل کر دی ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین