آسٹریلوی صحافی کیٹلین جانسٹون اپنے تجزیے میں لکھتی ہیں کہ اسرائیل کے حامی ہر نظریاتی گروہ کے لیے جوازات کا ایک مخصوص "پیکج” رکھتے ہیں۔ہر گروہ کو ایسا بیانیہ فراہم کیا جاتا ہے جو اس کے نظریاتی مزاج اور ذہنی سانچے سے ہم آہنگ ہو — تاکہ اسرائیل کے مظالم کو ان کے لیے قابلِ قبول اور جائز بنایا جا سکے۔
کیا آپ ایک ترقی پسند انسان دوست ہیں؟ تو اسرائیل کے حامیوں کے پاس آپ کے لیے ایک ایسا بیانیہ موجود ہے جو یہودی قوم کے ساتھ آپ کی ہمدردی اور ان کے خلاف تاریخی مظالم پر آپ کے غم و غصے کو اپیل کرتا ہے۔
کیا آپ ایک قدامت پسند ہیں جو مسلمانوں اور دہشت گردی سے خوفزدہ ہیں؟ تو آپ کے لیے ایک بالکل مختلف بیانیہ تیار ہے، جو آپ کے خوف کو تقویت دیتا ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ اسلامی انتہاپسندی کے خلاف جنگ دراصل مغربی تہذیب کے دفاع کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔
کیا آپ ایک بنیاد پرست عیسائی ہیں؟ تو آپ کے لیے ایک مذہبی بیانیہ موجود ہے جو یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اسرائیل کی حمایت دراصل بائبل میں خدا کا حکم ہے، اور یہ حمایت ایک مقدس فریضہ ہے۔
کیا آپ ایک فاشسٹ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ عربوں کا صفحۂ ہستی سے مٹ جانا ہی حل ہے؟ تو اسرائیل کے حامیوں کے پاس آپ جیسے لوگوں کے لیے بھی بیانیوں کی کمی نہیں — بلکہ بڑے وثوق سے آپ کی سوچ کے مطابق تراشے گئے دلائل موجود ہیں۔
اسرائیل کے حامی اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ مختلف سیاسی و فکری دھڑے مختلف طرز کے پیغامات پر کیسے ردِعمل دیتے ہیں، لہٰذا ہر دھڑے کو الگ سے تیار کردہ بیانیہ دیا جاتا ہے جو ان کے ذہنی سانچے سے ہم آہنگ ہو۔
لیکن ایک طبقہ ایسا ہے جسے وہ اپنی تمام تر مہارت کے باوجود قائل نہیں کر پاتے — اور وہ ہیں وہ لوگ جو پہلے ہی فلسطین کے حق میں دوٹوک اور مضبوط موقف رکھتے ہیں، جو زیادہ تر بائیں بازو کے انتہائی سرے پر پائے جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ بیانیاتی جنگ کے بجائے خاموش کر دینے، بدنام کرنے اور سماجی سطح پر حاشیے پر ڈالنے کی حکمتِ عملی اختیار کی جاتی ہے۔
یہ سارا معاملہ دراصل بیانیے پر اختیار حاصل کرنے کا ہے۔ اسرائیلی حامی شاید دنیا کی کسی بھی اور نظریاتی قوت سے بڑھ کر اس حقیقت سے واقف ہیں کہ بیانیے پر کنٹرول کی طاقت کیا ہوتی ہے — اور اس کی جھلک ہمیں مغربی معاشروں کے تقریباً ہر شعبے میں دکھائی دیتی ہے۔
یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ اسرائیل کے حامی برسوں تک مغرب میں اسرائیل کے حق میں رائے عامہ تشکیل دینے میں کامیاب رہے — حتیٰ کہ تاریخ کی پہلی براہِ راست نشر ہونے والی نسل کشی (غزہ میں) نے بالآخر ان کے بیانیے پر سے ان کی گرفت کو کمزور کرنا شروع کر دیا ہے۔

