منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیفلسطینی ڈاکٹر حمدی النجار، خاندان کے بعد خود بھی شہید

فلسطینی ڈاکٹر حمدی النجار، خاندان کے بعد خود بھی شہید
ف

دانشگاہ (ویب نیوز) مشرق وسطیٰ: غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے میں اسرائیل کے حالیہ فضائی حملے میں شدید زخمی ہونے والے فلسطینی معالج، ڈاکٹر حمدی النجار، اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔ اس حملے میں ان کے نو بچے بھی شہید ہو گئے تھے۔

اتوار کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر غزہ کی وزارتِ صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیر البورش نے ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ "ڈاکٹر حمدی اپنے ان بچوں سے جا ملے جو اس سے قبل شہید ہو چکے تھے۔”

انہوں نے مزید کہا: "ایک مکمل خاندان مٹا دیا گیا — سوائے ایک غمزدہ ماں اور اس کے زخمی بچے کے۔”

یہ فضائی حملہ 23 مئی کو غزہ کے شہر خان یونس میں نجار خاندان کے گھر پر اس وقت ہوا جب ڈاکٹر علاء النجار ناصر اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں ڈیوٹی پر موجود تھیں۔

چند گھنٹوں بعد ان کے بچوں — یحییٰ، راکان، رسلان، جبران، ایوا، ریوال، سیدن، لقمان اور سدرا — کی جلی ہوئی لاشیں ناصر اسپتال لائی گئیں۔ ان بچوں کی عمریں چند ماہ سے لے کر بارہ سال تک تھیں۔

آن لائن شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں بچوں کی جلی ہوئی اور جسمانی اعضا سے محروم لاشوں کو ملبے سے نکالتے ہوئے دکھایا گیا، جب کہ ان کے گھر کے ملبے سے اب بھی شعلے اٹھ رہے تھے۔

نجار خاندان کے دس میں سے صرف ایک بچہ، 11 سالہ آدم، اس حملے میں زندہ بچا۔ اس کے والد، ڈاکٹر حمدی النجار بھی ابتدائی طور پر زندہ بچ گئے تھے لیکن چند دن بعد زخموں کی شدت کے باعث شہید ہو گئے۔

اطلاعات کے مطابق، حملے سے کچھ دیر قبل ڈاکٹر حمدی نے اپنی اہلیہ کو ناصر اسپتال چھوڑا تھا اور بچوں کے لیے کھانا لینے گئے تھے۔ جب وہ واپس آئے تو گھر پر ایک میزائل حملہ دیکھا جو پھٹ نہ سکا۔ وہ فوراً گھر کے اندر بچوں کو بچانے کے لیے دوڑے، مگر اسی دوران اسرائیلی فضائیہ کا دوسرا حملہ ہوا جس میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔

فلسطینی وزارتِ صحت نے ڈاکٹر علاء النجار کے نام اپنے تعزیتی پیغام میں کہا:
"وہ ہمیشہ ایک باوقار فلسطینی خاتون اور ایک عظیم ڈاکٹر کے طور پر یاد رکھی جائیں گی، جو دوسروں کے زخموں پر مرہم رکھتی رہیں جب کہ خود دل شکستہ تھیں۔”

بیان میں مزید کہا گیا:
"یہ دلخراش سانحہ کوئی انفرادی واقعہ نہیں، بلکہ طبی عملے اور اداروں کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے کی اُس پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد غزہ میں ڈٹے ہوئے لوگوں کے حوصلے کو توڑنا ہے۔”

یاد رہے کہ اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کو غزہ پر جارحیت کا آغاز اُس وقت کیا جب حماس مزاحمتی تحریک نے اسرائیلی جرائم کے ردعمل میں ایک تاریخی کارروائی کی۔

اب تک صیہونی جارحیت میں کم از کم 54,381 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جب کہ 124,054 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

قابض اسرائیلی حکومت دانستہ طور پر غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل کو روک رہی ہے اور عام شہریوں کو بھوک کا نشانہ بنا کر جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین