منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیچین کی امریکہ کو تائیوان پر 'آگ سے نہ کھیلنے' کی وارننگ

چین کی امریکہ کو تائیوان پر ‘آگ سے نہ کھیلنے’ کی وارننگ
چ

دانشگاہ (ویب نیوز) امریکی وزیر دفاع کی جانب سے چین کو علاقائی خطرہ قرار دیے جانے پر بیجنگ نے امریکہ پر سرد جنگ کی ذہنیت اپنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

چین نے امریکہ کو تائیوان کے معاملے پر "آگ سے نہ کھیلنے” کی سخت وارننگ دی ہے۔ یہ ردعمل امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی جانب سے سنگاپور میں ایک اعلیٰ سطحی سکیورٹی سمٹ کے دوران چین کو "علاقے کے لیے خطرہ” قرار دینے کے بعد سامنے آیا ہے۔

ہیگسیتھ نے ہفتے کے روز شینگری لا ڈائیلاگ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین ایشیا میں طاقت کا توازن بدلنے کے لیے "قابلِ اعتبار حد تک فوجی کارروائی کی تیاری” کر رہا ہے اور اس نے تائیوان پر ممکنہ حملے کی مشقیں کی ہیں۔

بیجنگ تائیوان کو اپنا علیحدہ انتظامی علاقہ تصور کرتا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو طاقت کے ذریعے اس کے ساتھ دوبارہ انضمام کا عزم ظاہر کر چکا ہے۔ تاہم تائیوان کی حکومت بیجنگ کے خودمختاری کے دعوے کو مسترد کرتی ہے اور کہتی ہے کہ صرف تائیوان کے عوام ہی اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

ہیگسیتھ کے ریمارکس پر چین کی وزارتِ خارجہ نے فوری اور سخت ردعمل دیا، جس میں تائیوان کو چین کا داخلی معاملہ قرار دیتے ہوئے بیرونی قوتوں کو اسے بطور دباؤ کا ہتھیار استعمال کرنے سے باز رہنے کا کہا گیا۔ بیان میں امریکہ کی خطے میں پالیسی کو "بارود کے ڈھیر” سے تشبیہ دی گئی۔

وزارت کے مطابق: "امریکہ کو تائیوان کے معاملے کو چین کو محدود کرنے کے سودے کے طور پر استعمال کرنے کا وہم نہیں پالنا چاہیے، اور نہ ہی اسے آگ سے کھیلنا چاہیے۔”

ہیگسیتھ نے ایشیا پیسیفک میں امریکی اتحادیوں، خاص طور پر آسٹریلیا، سے دفاعی اخراجات بڑھانے کی اپیل کی، یہ کہتے ہوئے کہ چین سے لاحق خطرہ "حقیقی اور ممکنہ طور پر قریب الوقوع” ہے۔

چین نے امریکہ کو ایشیا پیسیفک میں "اصل عدم استحکام پیدا کرنے والی قوت” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ واشنگٹن جنوبی چین کے سمندر میں جارحانہ ہتھیار تعینات کر کے علاقائی کشیدگی بڑھا رہا ہے۔

بیجنگ نے کہا کہ ہیگسیتھ نے چین کے خلاف "بے بنیاد الزامات لگا کر اسے بدنام کرنے” اور سرد جنگ کے طرز پر محاذ آرائی کو فروغ دینے کی کوشش کی۔

وزارت کے مطابق: "ہیگسیتھ نے خطے کے ممالک کی امن اور ترقی کی پکار کو نظر انداز کرتے ہوئے جان بوجھ کر سرد جنگ کی ذہنیت کو فروغ دیا، چین کو جھوٹے اور بدنام کن الزامات کا نشانہ بنایا، اور اسے جھوٹے طور پر خطرہ قرار دیا۔” چین نے امریکہ کو اس "اشتعال انگیز بیان بازی” پر باقاعدہ احتجاجی مراسلہ بھی دیا ہے۔

چین اور فلپائن کے درمیان جنوبی بحیرۂ چین میں بعض جزیروں اور چٹانوں کی خودمختاری پر تنازع ہے، اور دونوں ممالک کے کوسٹ گارڈز کے درمیان گشت کے دوران کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

بیجنگ نے سمندری نیویگیشن کو لاحق خطرات سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین ہمیشہ سے خطے میں تنازعات کے حل کے لیے مکالمے کو فروغ دیتا آیا ہے اور اپنی علاقائی سالمیت کو بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے محفوظ رکھتا ہے۔

بیان کے مطابق: "جنوبی بحیرۂ چین میں امن اور استحکام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والا عنصر امریکہ ہی ہے۔”

چین کے وزیر دفاع ڈونگ جون نے اس بار سالانہ شینگری لا ڈائیلاگ میں شرکت نہیں کی۔ بیجنگ نے اس بار اعلیٰ سطحی نمائندوں کی بجائے نچلے درجے کا وفد بھیجا۔ 2019 کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ چین نے اس علاقائی دفاعی فورم میں اپنے وزیر دفاع کو نہیں بھیجا، سوائے 2020 اور 2021 کے، جب کووڈ-19 وبا کی وجہ سے یہ ایونٹ منسوخ کر دیا گیا تھا۔

چین اور امریکہ – دنیا کی دو بڑی اقتصادی طاقتوں – کے درمیان کشیدگی پہلے ہی ٹرمپ کی جاری تجارتی جنگ اور محصولات کی دھمکیوں کے باعث خاصی بلند ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین