منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامییمنی حملوں سے اسرائیلی معیشت شدید بحران کا شکار

یمنی حملوں سے اسرائیلی معیشت شدید بحران کا شکار
ی

دانشگاہ (ویب نیوز) مشرق وسطیٰ :

غزہ اور یمن کے محاذوں نے صہیونی کے عسکری، سیکیورٹی اور اقتصادی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، جب کہ دیگر محاذ فی الحال غیر فعال ہیں۔ فلسطینی مزاحمتی تحریکوں اور یمنی مسلح افواج کی کارروائیوں کے سیکیورٹی و عسکری پہلوؤں پر اگرچہ توجہ دی گئی ہے، لیکن اسرائیلی معیشت کا مسلسل زوال تیزی سے جاری ہے۔

یہ سب اس کے باوجود ہے کہ 2025 کا بجٹ بڑھایا گیا اور متعدد اقتصادی پالیسیاں لاگو کی گئیں تاکہ 2024 میں ہونے والے شدید معاشی نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔ تاہم، رواں سال کے ابتدائی تین ماہ میں ہی یہ پالیسیاں معیشت کی گراوٹ کو روکنے میں ناکام رہیں، حالانکہ جنوری سے مارچ تک یمنی حملے نسبتاً محدود رہے۔

یمن کے فضائی و بحری محاصروں نے صہیونی معیشت کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں سابقہ حملوں کے اثرات نہ صرف برقرار ہیں بلکہ مزید شدید ہو چکے ہیں۔ ساتھ ہی، غزہ کا مزاحمتی محاذ بدستور اسرائیلی مالی وسائل اور افرادی قوت کو چوس رہا ہے، خاص طور پر ریزرو فوجیوں کی بڑے پیمانے پر طلبی کے باعث کاروباری سرگرمیاں مفلوج ہو چکی ہیں۔

حالیہ دنوں میں اسرائیل کے مرکزی بینک کے سربراہ نے متنبہ کیا ہے کہ جنگِ غزہ کے تسلسل سے معاشی ترقی کی رفتار مزید سست پڑ جائے گی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، انہوں نے کہا کہ مقبوضہ فلسطین میں جغرافیائی و سیاسی عدم استحکام کے باعث مہنگائی میں کمی ممکن نہیں، جو شرحِ سود میں کمی کو روکے گا اور سرمایہ کاری، اسٹاک مارکیٹ اور کرنسی (شیکل) کو مزید کمزور کرے گا۔

ان کے مطابق، طویل المدت جنگ معیشت کے تمام شعبوں خصوصاً لیبر مارکیٹ کو متاثر کرے گی، جو معیشت کی محرک قوت سمجھی جاتی ہے۔ انہوں نے سرکاری قرض میں اضافے کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ معاشی دباؤ شدید ہوتا جا رہا ہے۔

صہیونی وزارتِ خزانہ کے بعض اہلکاروں نے عندیہ دیا ہے کہ 2026 کا بجٹ ممکنہ طور پر خسارے سے دوچار ہوگا، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ موجودہ بجٹ بھی عدم توازن کا شکار ہے۔ اپریل تک بجٹ خسارہ 5.1 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جب کہ فوجی اخراجات حد سے زیادہ ہیں اور مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ خسارہ گزشتہ سال کی 7 فیصد جی ڈی پی کی سطح کو عبور کر سکتا ہے، حالانکہ موجودہ بجٹ میں اضافی ٹیکس بھی شامل کیے گئے ہیں۔

یمنی حملوں، سرمایہ کاری میں کمی اور سیاحت کے زوال کے باعث صہیونی معیشت شدید بحران کا شکار ہو چکی ہے۔ ابتدا میں صہیونی ماہرین نے امید ظاہر کی تھی کہ جنگ بندی کے بعد پانچ سال میں معیشت سنبھل جائے گی، مگر تازہ اعداد و شمار کے مطابق اب یہ بحران طویل اور گہرا ہو چکا ہے۔

اسرائیلی ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کی سالانہ معاشی کانفرنس میں مرکزی بینک نے اعتراف کیا کہ اپریل کے دوران معاشی سرگرمیوں کا مجموعی اشاریہ 0.10 فیصد کم ہوا۔ اس کی بنیادی وجہ برآمدات میں کمی اور گھریلو خریداری کا گھٹنا ہے، جس کا تعلق یمنی فضائی محاصرے، قیمتوں میں اضافے اور حیفہ بندرگاہ پر بحری ناکہ بندی سے جوڑا جا رہا ہے۔ ان اقدامات سے نہ صرف درآمدات و برآمدات متاثر ہو رہی ہیں بلکہ پیداواری صلاحیت بھی گر رہی ہے۔

سیاحت کا شعبہ بھی 70 فیصد سے زائد سکڑ چکا ہے، جب کہ یمنی حملوں کے نتیجے میں بیرونِ ملک ہجرت، سرمایہ داروں کا انخلا اور ہنر مند افراد کی بیرونِ ملک روانگی جیسے عوامل رپورٹ ہو چکے ہیں۔

تمام اشارے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اسرائیل کی غزہ پر جارحیت اور ناکہ بندی کی قیمت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ یمن کی جوابی مہمات اور غزہ سے جاری مزاحمتی کارروائیاں قابض ریاست کی ہر بنیاد کو ہلا رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں اندرونی تقسیم، عالمی سطح پر بدنامی، مغرب اور امریکہ سے کشیدگی، اور صہیونی وجود کے سیاسی جواز پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے—اور یہ سب ایک متوقع فتح کی تمہید بن رہے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین