مشرق وسطیٰ: حماس کی امریکہ سے اسرائیل کی غزہ جنگ ختم کرنے کے لیے ‘سنجیدہ’ ضمانتوں کا مطالبہ
فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی جاری جنگ ختم کرنے کے لیے سنجدہ ضمانتیں فراہم کرے، جن میں فوری جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا شامل ہو۔
حماس کے رہنما جہاد طہٰہ نے جمعہ کو کہا کہ حماس مختلف فلسطینی دھڑوں کے ساتھ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی تجویز پر غور کر رہا ہے تاکہ غزہ میں مستقل جنگ بندی حاصل کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ وٹکوف کا منصوبہ حماس کی پیش کردہ شرائط کو پورا نہیں کرتا، خاص طور پر فوری یا مرحلہ وار جنگ بندی کی واضح یقین دہانی نہیں ہے، اس لیے حماس نے امریکہ سے سنجیدہ ضمانتوں کا مطالبہ کیا ہے۔
جہاد طہٰہ نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ غزہ کی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر اسے بچانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔
گذشتہ دنوں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس اور امریکی ایلچی کے درمیان 60 دن کی جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے پر ایک معاہدہ طے پانے کی خبریں بھی آئیں، جسے 19 ماہ سے جاری جنگ ختم کرنے کی راہ ہموار کرنے والا قرار دیا جا رہا ہے۔
حماس نے بارہا کہا ہے کہ وہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے مکمل مذاکرات کرنے کو تیار ہے، بشرطیکہ جنگ بند ہو، اسرائیلی فوج غزہ سے نکلے، اور فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے اکتوبر 2023 میں غزہ پر جنگ شروع کی تھی جس میں لاکھوں فلسطینی شدید متاثر ہوئے، اور کئی مہینوں تک جنگ بندی کی متعدد بار خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔

