منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامییمن سے HMS جہاز کی بحیرۂ احمر میں گزرنے کی برطانوی درخواست

یمن سے HMS جہاز کی بحیرۂ احمر میں گزرنے کی برطانوی درخواست
ی

یمن: محمد علی الحوثی کا انکشاف – برطانوی طیارہ بردار جہاز HMS کی بحیرۂ احمر سے گزرنے کے لیے اجازت طلب کی گئی

سپریم پولیٹیکل کونسل کے رکن محمد علی الحوثی نے اعلان کیا ہے کہ برطانوی طیارہ بردار جنگی بحری جہاز HMS کی بحیرۂ احمر سے گزرنے کے سلسلے میں یمنی حکومت سے رابطہ کیا گیا ہے۔

اپنے بیان میں محمد علی الحوثی نے تصدیق کی کہ یمنی مسلح افواج نے اس جہاز کو اس شرط پر گزرنے کی اجازت دی کہ وہ کسی بھی قسم کی جنگی کارروائی میں ملوث نہ ہو اور خاص طور پر یمن کی غزہ کے حق میں فوجی سرگرمیوں کے حوالے سے غیر جارحانہ رویہ اختیار کرے۔

انہوں نے زور دیا کہ اگر اس جہاز کی سرگرمیاں پرامن مشن سے ہٹ کر جارحانہ رخ اختیار کرتی ہیں، تو یمن اپنے مؤقف پر نظرثانی کرے گا اور اس کی موجودگی کے خلاف مؤثر ردِعمل دے گا۔

غزہ کی جنگ نے پورے خطے میں کشیدگی کو ایک بار پھر بھڑکا دیا ہے، لیکن اس بار یمن نے خود کو ایک اہم علاقائی قوت کے طور پر منوایا ہے، جو اس تنازعے کی حرکیات کو نئی شکل دے رہا ہے۔ میزائل اور ڈرون حملوں کے تسلسل کے ذریعے یمن نے اسرائیل پر بحری اور فضائی محاصرہ مسلط کر دیا ہے، جس سے بحیرۂ احمر کی اہم تجارتی راہیں متاثر ہوئی ہیں اور اسرائیلی فضائی حدود میں آمدورفت تقریباً معطل ہو گئی ہے۔

اگرچہ امریکہ اسرائیل کو بھرپور عسکری تعاون فراہم کر رہا ہے، مگر یمنی کارروائیوں نے امریکی فوجی نظام کی سنگین کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ بار بار ہونے والے میزائل حملوں کے باعث امریکی جنگی بحری جہازوں، جن میں طیارہ بردار جہاز بھی شامل ہیں، کو بار بار بچاؤ کی تدابیر اختیار کرنا پڑی ہیں، جس سے ان آبی گذرگاہوں کو محفوظ رکھنے کی امریکی صلاحیت پر سوال اٹھ رہے ہیں۔

سفارتی اثرات بھی نمایاں — یمنی حکمتِ عملی نے امریکی و اسرائیلی برتری کو چیلنج کر دیا

غیر ملکی ایئرلائنز کی جانب سے اسرائیل کے لیے پروازیں معطل کرنا اور عالمی میڈیا کی طرف سے امریکی قیادت میں قائم اتحاد کی مؤثریت پر سوالات اٹھانا اس بات کا ثبوت ہیں کہ سفارتی سطح پر بھی یمن کی کارروائیوں کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

یمن کی غیر روایتی جنگی حکمتِ عملی نے نہ صرف خطے میں طاقت کا توازن بدل دیا ہے بلکہ اسرائیل اور امریکہ کی فوجی برتری کے دیرینہ تاثر کو بھی کھلے عام چیلنج کیا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین