غزہ میں اسرائیلی مظالم کے خلاف برازیل کی تیل یونینوں کا مؤقف: اسرائیل پر تیل کی پابندی عائد کی جائے
برازیل کی دو بڑی تیل مزدور تنظیموں — نیشنل فیڈریشن آف آئل ورکرز اور سنگل فیڈریشن آف آئل ورکرز — نے صدر لولا ڈا سلوا سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف توانائی کی پابندی عائد کی جائے، تاکہ غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔
دونوں یونینوں نے صدر اور متعلقہ وزراء کو ایک مشترکہ خط ارسال کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ صرف بیانات جاری کرنا کافی نہیں، برازیل کو اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ان تنظیموں نے زور دیا ہے کہ اسرائیل کو برازیلی تیل کی برآمد مکمل طور پر بند کی جائے، کیونکہ یہ تیل فلسطینیوں پر جاری "نسل کشی” کو ایندھن فراہم کر رہا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ برازیل نے گزشتہ سال 27 لاکھ بیرل خام تیل اسرائیل کو برآمد کیا، جو اس کے عسکری ایندھن کا ایک نمایاں حصہ بنتا ہے۔ تنظیموں نے خبردار کیا کہ ان برآمدات کا تسلسل برازیل کو ممکنہ طور پر جنگی جرائم یا انسانی حقوق کی پامالیوں میں بالواسطہ شریک کر سکتا ہے۔
یونینز نے اپنے خط میں زور دیا کہ برازیل کو اپنے سفارتی ورثے کی لاج رکھنی چاہیے، اور انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنی معاشی پالیسیوں کو اخلاقی اور قانونی تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات کو بھی سراہا کہ کئی ممالک، مثلاً کولمبیا، نے اسرائیل کو کوئلے کی برآمد بند کر کے واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔
برازیلی صدر لولا ڈا سلوا پہلے ہی غزہ میں جاری مظالم کی کھل کر مذمت کر چکے ہیں اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ تاہم، تیل مزدور تنظیمیں چاہتی ہیں کہ بیانات سے آگے بڑھ کر پالیسی سطح پر عملی اقدامات کیے جائیں۔
خط میں "جاری النکبہ” (فلسطینیوں کی مسلسل تباہی اور بے دخلی) کو روکنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔
غزہ میں جنگ پر احتجاج: چلی نے اسرائیل سے تمام عسکری و فضائی اتاشی واپس بلا لیے
چلی کی حکومت نے رواں ہفتے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں تعینات اپنے تمام فوجی، دفاعی اور فضائی اتاشیوں کو واپس بلا رہی ہے۔ یہ فیصلہ غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا گیا ہے۔
چلی کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے 28 مئی کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام "غزہ میں فلسطینی عوام کو درپیش نہایت سنگین انسانی بحران” کے ردِعمل میں کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ پر اسرائیلی حملوں میں 54,381 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جب کہ 1,24,054 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیلی افواج کی جانب سے مسلسل بمباری اور محاصرے کی پالیسی نے پورے علاقے کو ایک انسانی المیے میں تبدیل کر دیا ہے۔
دریں اثنا، بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے نومبر 2024 میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو اور سابق وزیرِ دفاع یواف گیلنٹ کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔

