ایران کو جوہری معاہدے سے متعلق امریکی تحریری تجویز، افزودگی پر اختلاف بدستور قائم
🔻 وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے ایران کو جوہری معاہدے کے حوالے سے ایک جامع اور "قابل قبول” تحریری تجویز پیش کی ہے، جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں نیوکلیئر سرگرمیوں پر نئی حکمتِ عملی ترتیب دینا ہے۔
🔻 نیویارک ٹائمز کے مطابق، اس تجویز میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر بند کر دے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک علاقائی نیوکلیئر انرجی کنسورشیم کے قیام کی تجویز بھی دی گئی ہے، جس میں ایران، سعودی عرب، دیگر عرب ریاستیں اور خود امریکہ شامل ہوں گے۔ البتہ یہ ایک مکمل معاہدہ نہیں بلکہ ابتدائی نکات پر مشتمل ایک دستاویز ہے۔
🔻 ماضی میں ایران نے یورینیم افزودگی کو اپنی خودمختاری کا حصہ قرار دیتے ہوئے اس کی معطلی کے تمام مطالبات کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی واضح کر چکے ہیں کہ جو بھی تجویز ایران کے قانونی حقوق سے ٹکرائے گی، وہ ناقابلِ قبول ہو گی۔
🔻 اکسیوس کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکہ ممکنہ طور پر ایران کے افزودگی کے حق کو نظری سطح پر تسلیم کرنے پر غور کر رہا ہے، لیکن اس کی عملی معطلی چاہتا ہے—ایسا مطالبہ جسے ایران، اپنی بھاری سرمایہ کاری اور سائنسی پیشرفت کے تناظر میں، رد کر سکتا ہے۔
🔻 یہ تحریری تجویز حال ہی میں عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے تہران کے ایک مختصر دورے کے دوران ایرانی حکام کو پہنچائی۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اس موقع پر کہا کہ ایران اس تجویز پر اپنا مؤقف قومی مفادات اور قانونی حقوق کی بنیاد پر دے گا۔
🔻 نتیجہ:
اپریل کے بعد امریکہ کی جانب سے یہ ایران کے لیے پہلا باضابطہ تحریری اقدام ہے۔ تاہم ایران کی یورینیم افزودگی کے حق پر سخت پوزیشن کے پیشِ نظر، اس مجوزہ معاہدے کی کامیابی کے امکانات محدود نظر آتے ہیں۔

