منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیدورہ فلسطین پر پابندی، عرب وزرائے خارجہ کی اسرائیلی اقدام کی مذمت

دورہ فلسطین پر پابندی، عرب وزرائے خارجہ کی اسرائیلی اقدام کی مذمت
د

اردن، مصر، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کو مقبوضہ مغربی کنارے کے دورے سے روکنے پر شدید ردعمل

اردن، مصر، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کے دورے پر پابندی کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے قابل مذمت قرار دیا ہے۔

ہفتے کے روز اردنی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ "عرب وزرائے خارجہ کے اس وفد کو اتوار کے روز رام اللہ میں ریاستِ فلسطین کے صدر محمود عباس سے ملاقات کے لیے جانا تھا، لیکن اسرائیل نے اس دورے پر پابندی عائد کر دی ہے۔”

ترکیہ کے وزیر خارجہ کی شمولیت کے ساتھ اس اجلاس کا انعقاد فلسطینی اتھارٹی کی میزبانی میں ہونا تھا، جس کے لیے وزرا کو اردن کے راستے مقبوضہ مغربی کنارے آنا تھا۔ تاہم چونکہ اس علاقے کی سرحدوں اور فضائی حدود کا کنٹرول اسرائیل کے پاس ہے، اس لیے اسرائیلی اجازت کے بغیر یہ ممکن نہ تھا۔

جمعہ کی شب اسرائیلی حکام نے اپنے مؤقف میں کہا کہ فلسطینی اتھارٹی "اکتوبر 7 کے حملے کی مذمت سے انکار کر چکی ہے، اور اب وہ رام اللہ میں عرب وزرائے خارجہ کے اشتعال انگیز اجلاس کی میزبانی کرنا چاہتی ہے، تاکہ فلسطینی ریاست کے قیام کو فروغ دیا جا سکے۔ اسرائیل ایسے کسی بھی اقدام میں شریک نہیں ہو گا جو اس کی سلامتی کے لیے خطرہ ہو۔”

یہ پیشرفت ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب 17 تا 20 جون نیویارک میں فلسطینی ریاست کے قیام کے موضوع پر ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہونے جا رہی ہے، جس کی مشترکہ میزبانی فرانس اور سعودی عرب کر رہے ہیں۔

اسرائیل کو دو ریاستی حل کے حامی اقوام متحدہ اور متعدد یورپی ممالک کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے جمعہ کو کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا نہ صرف ایک "اخلاقی فریضہ” ہے بلکہ "سیاسی ضرورت” بھی۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے اسرائیلی فوج نے جنین پناہ گزین کیمپ کے قریب ایک سفارتی قافلے پر فائرنگ کی تھی، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ اس قافلے میں یورپی یونین، برطانیہ، روس اور چین کے سفارتکار شامل تھے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ قافلہ طے شدہ راستے سے ہٹ گیا تھا، جس پر "انتباہی فائرنگ” کی گئی۔

ادھر اسرائیلی حکومت مقبوضہ مغربی کنارے میں غیرقانونی یہودی بستیوں کے قیام کے عمل کو بھی وسعت دے رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں اسرائیل نے 22 نئی بستیوں کے قیام کے منصوبے کا اعلان کیا ہے، جن میں بعض غیر منظور شدہ آؤٹ پوسٹس کو باضابطہ قانونی حیثیت دینا بھی شامل ہے۔ ان اقدامات پر فلسطینی حکام اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے سخت تنقید کی ہے۔

بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) نے جولائی 2023 میں اپنے فیصلے میں اسرائیلی قبضے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم سے تمام بستیوں کے انخلا کا مطالبہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے حملوں میں کم از کم 972 فلسطینی شہید اور 7,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسی عرصے میں غزہ میں کم از کم 54,381 فلسطینی شہید اور 124,054 زخمی ہوئے، جب کہ غزہ کی سرکاری میڈیا سروسز نے اموات کی تعداد 61,700 سے زائد بتائی ہے، جن میں ملبے تلے دبے ہزاروں لاپتہ افراد بھی شامل ہیں۔

اکتوبر 7 کے حملوں میں اسرائیل کے مطابق 1,139 افراد ہلاک اور 200 سے زائد یرغمال بنائے گئے تھے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین