منگل, فروری 17, 2026
ہومپاکستاننادرا نے معیاد ختم شدہ شناختی کارڈز پر جاری کی گئی موبائل...

نادرا نے معیاد ختم شدہ شناختی کارڈز پر جاری کی گئی موبائل سمز بند کرنے کا فیصلہ کر لیا
ن

اسلام آباد – جمعہ کے روز وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ مرحلہ وار ان تمام موبائل فون سمز (SIMs) کو بلاک کر دیا جائے گا جو یا تو معیاد ختم شدہ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) پر جاری کی گئی ہیں یا پھر ان افراد کے نام پر ہیں جو انتقال کر چکے ہیں۔

یہ اجلاس نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ہیڈکوارٹر میں وزیر داخلہ کے دورے کے بعد منعقد ہوا۔

وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، پہلے مرحلے میں اُن شناختی کارڈز پر جاری کردہ سمز کو بند کیا جائے گا جن کی میعاد 2017 یا اس سے پہلے ختم ہو چکی ہے۔ اگلے مراحل میں اُن شناختی کارڈز پر بھی یہی پالیسی لاگو ہوگی جن کی میعاد 2017 کے بعد ختم ہوئی، تاکہ صرف فعال CNICs پر سمز جاری کی جا سکیں۔

نادرا کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل منیر افسر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے اشتراک سے ان تمام موبائل سمز کو بلاک کیا جائے گا جو معیاد ختم شدہ شناختی کارڈز یا مرحوم افراد کے نام پر رجسٹرڈ ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مختلف سرکاری ادارے اور سروس فراہم کرنے والے شہریوں کا بایومیٹرک ڈیٹا مقامی ڈیٹا بیسز میں محفوظ کر رہے ہیں، جس سے اس حساس معلومات کے غلط استعمال یا چوری کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

چیئرمین نادرا نے یہ تجویز بھی دی کہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے فیشل ریکگنیشن سسٹم (چہرے سے شناخت کا نظام) کو استعمال میں لایا جائے، جو ان شہریوں کے لیے خاص طور پر مفید ہوگا جنہیں فنگر پرنٹ کی تصدیق میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ وزارت داخلہ تمام متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کرے گی کہ وہ شہریوں کا بایومیٹرک ڈیٹا علیحدہ علیحدہ ذخیرہ کرنا بند کریں۔ انہوں نے نادرا کو ہدایت دی کہ وزارت داخلہ کی نگرانی میں رواں سال 31 دسمبر تک ملک بھر میں چہرے سے شناخت (Facial Recognition) کی ٹیکنالوجی متعارف کروائی جائے۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ نادرا کی خدمات ملک بھر کی 44 تحصیلوں اور مخصوص یونین کونسلز تک توسیع دی جا چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کی تمام 31 یونین کونسلز میں 30 جون تک نادرا کی سہولیات دستیاب ہونی چاہئیں۔

محسن نقوی نے اسلام آباد کے سیکٹر I-8 میں نادرا میگا سینٹر کی 10 منزلہ عمارت کا سنگ بنیاد بھی رکھا، جس کی تکمیل جون 2026 تک متوقع ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے قومی شناختی کارڈ (NIC) قواعد 2002 میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔ بچوں اور خاندانوں کے لیے جاری رجسٹریشن سرٹیفکیٹس کو اپڈیٹ کر دیا گیا ہے تاکہ قانونی وضاحت کو یقینی بنایا جا سکے اور جعلسازی کی روک تھام کی جا سکے۔

لاس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ نادرا اس وقت "پاک آئی ڈی” (PAK ID) موبائل ایپ کی خصوصیات اور افادیت کو بہتر بنانے پر بھرپور توجہ دے رہا ہے، جسے اب تک سات ملین (70 لاکھ) سے زائد مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے۔

ایپ میں حال ہی میں شامل کی گئی خصوصیات میں شامل ہیں:

  • ڈیجیٹل شناختی کارڈ کا اجرا
  • پنشنرز کے لیے ثبوتِ زندگی کی سہولت
  • وفاقی اسلحہ لائسنس کی تجدید

اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور نادرا کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین