منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیٹرمپ کی تجارتی جنگ سے 34 ارب ڈالر کا نقصان، 70 لاکھ...

ٹرمپ کی تجارتی جنگ سے 34 ارب ڈالر کا نقصان، 70 لاکھ نوکریاں خطرے میں
ٹ

رائٹرز کے تجزیے کے مطابق ٹرمپ کی تجارتی جنگ کے باعث دنیا بھر کی کمپنیوں کو 34 ارب ڈالر سے زائد کے منافع کا نقصان اور سپلائی چین میں خلل کا سامنا کرنا پڑا ہے، جب کہ ماہرین کے مطابق نقصانات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جاری تجارتی جنگ کے باعث امریکہ، یورپ اور ایشیا کی بڑی کمپنیوں کو مجموعی طور پر 34 ارب ڈالر سے زائد کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ اعداد و شمار رائٹرز کی جانب سے کمپنیوں کے مالیاتی انکشافات کا تجزیہ کرنے کے بعد سامنے آئے ہیں۔

یہ تخمینہ ایس اینڈ پی 500 کی 32، یورپی اسٹاک انڈیکس STOXX 600 کی تین، اور جاپان کی نِکئی 225 کی 21 کمپنیوں کی رپورٹس پر مبنی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حقیقی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے، کیونکہ متعدد کاروبار تاحال مکمل طور پر نقصان کا اندازہ لگانے سے قاصر ہیں۔

ییل اسکول آف مینجمنٹ کے پروفیسر جیفری سونن فیلڈ کا کہنا ہے کہ:
"آپ اگر اس اعداد و شمار کو دو یا تین گنا بھی کر دیں تو بھی یہ نقصان اصل حقیقت سے کم ہوگا، کیونکہ اس کا دائرہ کار لوگوں کی سوچ سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔”

تمام صنعتیں متاثر، منافع میں کمی

ٹیکنالوجی، آٹو موبائل، ریٹیل، اور ایوی ایشن سمیت تمام شعبے غیر متوقع ٹیرف پالیسیوں کے باعث اپنے منافع کی پیش گوئیاں کم یا معطل کر چکے ہیں۔ ایپل، فورڈ، پورشے، اور سونی جیسی بڑی عالمی کمپنیاں اپنی کمائی کی پیش گوئیاں گھٹا چکی ہیں، جب کہ والمارٹ نے سہ ماہی رہنمائی دینے سے انکار کر دیا ہے اور قیمتوں میں اضافے سے خبردار کیا ہے — جس پر صدر ٹرمپ نے سخت ردعمل دیا۔

یورپی آٹو ساز کمپنی ولوو نے اگلے دو برس کے لیے منافع کی پیش گوئی ہی واپس لے لی ہے، جب کہ یونائیٹڈ ایئرلائنز نے بدلتے معاشی حالات کے باعث متضاد پیش گوئیاں کی ہیں۔

ریچرڈ برن اسٹین ایڈوائزرز کے سی ای او رچ برن اسٹین کہتے ہیں:
"جب دنیا اس قدر غیر یقینی کا شکار ہو اور آپ درست اندازہ نہ دے سکیں تو بہتر ہوتا ہے کہ خاموشی اختیار کی جائے۔”

سپلائی چین متاثر، لاگت میں اضافہ

رائٹرز کے مطابق اب تک 42 کمپنیوں نے اپنی آمدنی کی پیش گوئیاں کم کر دی ہیں جب کہ 16 کمپنیوں نے رہنمائی واپس لے لی ہے۔ ایس اینڈ پی 500 کی مجموعی کمائی میں سال کے اختتام تک صرف 5.1 فیصد فی سہ ماہی اضافے کی توقع ہے، جب کہ گزشتہ برس یہی شرح 11.7 فیصد تھی۔

سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبوں میں آٹو ساز ادارے، ایئرلائنز، اور صارفین کی مصنوعات درآمد کرنے والے کاروبار شامل ہیں — جو کثیرالملکی سپلائی چین پر انحصار کرتے ہیں۔

ایلومینیم، الیکٹرانکس اور کلیدی پرزوں پر لگنے والے محصولات نے اسمبلی کی لاگت بڑھا دی ہے۔ جو کمپنیاں پیداوار امریکہ منتقل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، وہ بلند لیبر اخراجات کا سامنا کر رہی ہیں۔

کلینیکس بنانے والی کمپنی Kimberly-Clark نے بتایا کہ اسے صرف ٹیرف کی وجہ سے اس سال 30 کروڑ ڈالر کا اضافی خرچہ برداشت کرنا پڑے گا۔ چند دن بعد ہی کمپنی نے امریکہ میں پیداوار بڑھانے کے لیے اگلے پانچ سال میں دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا — جو کہ 34 ارب ڈالر کے تخمینے میں شامل نہیں ہے۔ ایپل اور Eli Lilly جیسی کمپنیاں بھی امریکہ میں سرمایہ کاری بڑھا رہی ہیں۔

سرمایہ کاری پر نظرثانی، اخراجات میں اضافہ

خوراک اور مشروبات کی صنعت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ جاننی واکر وہسکی اور ڈان خولیو ٹکیلا بنانے والی کمپنی Diageo نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2028 تک 50 کروڑ ڈالر کی لاگت کم کرے گی اور اثاثے فروخت کرے گی، کیونکہ امریکہ کی جانب سے برطانیہ اور یورپی یونین کی مصنوعات پر عائد محصولات کے باعث اسے سالانہ 15 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

eMarketer کے تجزیہ کار زیک اسٹیمبور کے مطابق:
"یہ محصولات ایک آرام دہ شام یا پُرسکون رات کا خرچ بھی بڑھا سکتے ہیں۔”

چین سے جاری مذاکرات اور امریکہ-یورپ تجارتی تعلقات میں غیر یقینی کے باعث کمپنیاں اپنی سپلائی چینز پر نظرثانی کر رہی ہیں، نزدیکی خطوں میں سرمایہ کاری بڑھا رہی ہیں، اور متبادل منڈیوں کی تلاش کر رہی ہیں۔ لیکن یہ اقدامات بھی مہنگے ثابت ہو رہے ہیں اور مہنگائی کے خدشات اور کمزور صارف خرچ کے دور میں ان پر عمل درآمد مزید چیلنجنگ بنتا جا رہا ہے۔

ماہرین خبردار: طویل مدتی اثرات ابھی واضح نہیں

صدر ٹرمپ کے مطابق محصولات امریکی تجارتی خسارہ کم کرنے اور روزگار امریکہ واپس لانے میں مدد دیں گے، تاہم وائٹ ہاؤس کی پالیسیوں نے عالمی مارکیٹوں کو غیر یقینی میں ڈال دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان کُش دیسائی نے کہا:
"امریکہ کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ بالآخر اپنے تجارتی شراکت داروں سے محصولات کی قیمت وصول کر سکے۔”

تاہم عالمی کاروباروں کی تصویر اس کے برعکس ہے۔ 2025 کی پہلی سہ ماہی میں ایس اینڈ پی 500 کی 72 فیصد کمپنیوں نے اپنی رپورٹس میں محصولات کا ذکر کیا — جو پچھلی سہ ماہی کے مقابلے میں دگنا ہے۔ یورپ کی STOXX 600 کی 219 کمپنیوں نے ٹیرف کا حوالہ دیا، جو کہ پہلے 161 تھیں۔ جاپان میں بھی یہ تعداد 12 سے بڑھ کر 58 ہو گئی ہے۔

حال ہی میں امریکی تجارتی عدالت نے محصولات کی نئی لہر کو روک دیا ہے، لیکن غیر یقینی صورتحال اب بھی برقرار ہے۔ کمپنیاں سرمایہ کاری یا پیش گوئی کرنے سے قاصر ہیں۔

برن اسٹین کے مطابق:
"کارپوریشنز کو مستقبل کے بارے میں کسی چیز کی زیادہ وضاحت نظر نہیں آتی۔”

آئی ایل او کی وارننگ: ٹرمپ کی تجارتی جنگ سے لاکھوں ملازمتیں ختم ہو سکتی ہیں

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) نے خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ کی تجارتی جنگ عالمی معیشت کو اس سال لاکھوں نوکریوں سے محروم کر سکتی ہے۔ ادارے کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں متوقع نئی ملازمتوں کی تعداد 70 لاکھ کم ہو جائے گی۔

بدھ کو جاری کردہ رپورٹ میں آئی ایل او نے کہا ہے کہ اگلے برس دنیا بھر میں صرف 5 کروڑ 30 لاکھ ملازمتیں پیدا ہوں گی، جب کہ پہلے 6 کروڑ کا تخمینہ تھا۔ اس کی وجہ عالمی معاشی سست روی اور ٹرمپ کے بڑھتے محصولات کے باعث پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال ہے۔

یہ تجزیہ آئی ایم ایف کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، جس نے حال ہی میں عالمی جی ڈی پی گروتھ کا تخمینہ 3.2 فیصد سے کم کر کے 2.8 فیصد کر دیا ہے۔

آئی ایل او کے مطابق امریکہ کی صارفین کی طلب سے جُڑی 84 ملین ملازمتیں 71 ممالک میں موجود ہیں، جن میں سے 5 کروڑ 60 لاکھ صرف ایشیا پیسیفک خطے میں اور 1 کروڑ 30 لاکھ کینیڈا اور میکسیکو میں ہیں۔

ٹرمپ کی جانب سے گاڑیوں اور اسٹیل جیسی اشیاء پر درآمدی ڈیوٹی بڑھانے اور 9 جولائی سے مزید "جوابی محصولات” کی دھمکیوں نے عالمی سپلائی چینز اور بھرتیوں کے منصوبوں میں بے یقینی پیدا کر دی ہے۔

آئی ایل او کے ڈائریکٹر جنرل گِلبرٹ ہونگبو نے کہا:
"اگر جغرافیائی کشیدگی اور تجارتی رکاوٹیں جاری رہیں تو ان کے عالمی مزدور منڈی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، اور آجر زیادہ محتاط رویہ اختیار کریں گے۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین