یمن: یمنی مسلح افواج کی میزائل فورس نے ایک عسکری کارروائی کے تحت مقبوضہ یافہ کے علاقے میں واقع لوڈ ایئرپورٹ (جسے اسرائیل میں بن گوریون ایئرپورٹ کے نام سے جانا جاتا ہے) کو ایک ہائپرسونک بیلسٹک میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا۔
اس آپریشن نے کامیابی سے اپنا ہدف حاصل کیا، جس کی وجہ سے صہیونی قابضین کی لاکھوں تعداد کو پناہ گزینی کی جگہوں کی طرف بھاگنے پر مجبور ہونا پڑا اور ہوائی اڈے پر فضائی آمد و رفت روک دی گئی۔
مسلم افواج نے ایک بیان میں تمام عوام کو یقین دہانی کرائی:
"ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کے لیے اپنا دینی، اخلاقی اور انسانی فریضہ جاری رکھیں گے یہاں تک کہ اسرائیلی جارحیت بند ہو، اور محاصرہ ختم ہو۔”
یمنی مسلح افواج نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ اپنی سرزمین پر ہر قسم کی اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ فلسطینی مظلوم عوام کے لیے مزید امدادی کارروائیوں کے ذریعے کریں گے۔
مزید برآں، یمنی افواج نے واضح کیا کہ وہ دشمن اسرائیلی وجود کے لیے لوڈ ایئرپورٹ پر ہوائی آمد و رفت پر پابندی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اکتوبر 2023 میں اسرائیل کی غزہ پر جنگ کے آغاز سے اب تک یمن ایک مرکزی علاقائی فریق کے طور پر ابھرا ہے، جس نے فلسطینی مزاحمت کے ساتھ مضبوط یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ صنعاء کی حکومت کی قیادت میں یمنی مسلح افواج نے متعدد اسٹریٹجک عسکری کارروائیاں کی ہیں جن میں میزائل اور ڈرون حملے، بحری و فضائی ناکہ بندیاں شامل ہیں جو اسرائیلی مفادات اور رسد کے راستوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
بحر احمر میں بحری آمد و رفت میں خلل ڈالنے سے شروع ہونے والی یہ کارروائیاں بعد میں وسیع تر مہمات میں تبدیل ہوگئیں، جنہوں نے اسرائیل کے اہم معاشی مراکز جیسے ایلات بندرگاہ اور لوڈ ایئرپورٹ کو متاثر کیا۔ مئی 2025 میں یمنی فوج نے حیفا بندرگاہ پر بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا، جو اسرائیل کی تجارتی مال برداری کا ایک تہائی سے زائد سنبھالتی ہے۔
یہ تمام کارروائیاں یمن کی اس پالیسی کا حصہ ہیں جس کا مقصد اسرائیل پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ غزہ پر جنگ ختم کرے اور محاصرہ اٹھائے۔ ان حملوں کی وجہ سے بین الاقوامی جہازرانی، سیاحت اور فضائی آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے، اور درجنوں عالمی ایئرلائنز نے اسرائیلی ہوائی اڈوں کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں۔

