یمن: فوجی امور کے ماہر بریگیڈیئر جنرل علی ابی رعد نے کہا ہے کہ یمن کی جانب سے صیہونی ریاست کے اندر گہرائی میں کیے جانے والے حملے نہ صرف غزہ پر جارحیت کے خاتمے اور محاصرے کے خاتمے کے لیے دباؤ کا ذریعہ ہیں، بلکہ یہ عرب اور اسلامی اقوام کے لیے ایک دفاعی ڈھال کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔
جمعرات کو "المسیرہ” ٹی وی سے ٹیلی فونک گفتگو میں جنرل ابی رعد نے دن کی روشنی میں میزائل حملوں کے نفسیاتی اثرات پر روشنی ڈالی، اور کہا کہ دن کے اوقات میں کیے جانے والے حملے اسرائیلی آبادکاروں پر زیادہ گہرا اثر ڈالتے ہیں، جیسا کہ حالیہ اسٹیڈیم کے واقعے میں بھی خوف اور گھبراہٹ واضح طور پر دیکھی گئی۔
انہوں نے اسرائیلی اور اس کے اتحادیوں کی انٹیلیجنس ناکامی کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ یمنی میزائل دِن ہو یا رات—ہر وقت داغے جا رہے ہیں، اور امریکی ہتھیار، سیٹلائٹس اور جدید نظام ان کے لانچنگ مقامات کا پتہ لگانے میں ناکام ہو چکے ہیں، جو دشمن کے انٹیلیجنس و عسکری نظام کی کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے۔
انہوں نے پیشگوئی کی کہ یمن جلد اسرائیلی ریڈارز، فوجی اڈوں اور ہوائی اڈوں جیسے اہم عسکری مراکز کو نشانہ بنائے گا، اور صدر مهدی المشاط کے واضح بیانات کو اس کا ثبوت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ آسانی سے ختم ہونے والی نہیں، اور یمن عرب و اسلامی اقوام اور غزہ کے بہادر عوام کی مزاحمت کے ساتھ کھڑا ہے۔
بحری محاذ پر امریکی برتری کو چیلنج
ابی رعد نے کہا کہ بحری محاذ پر امریکی افواج—جو اپنی عالمی برتری اور وسیع بحری بیڑوں کی حامل ہیں—یمنی میزائلوں اور ڈرونز کی طرف سے درپیش خطرات پر حیرت زدہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یمنی صلاحیتوں نے امریکی بحری طاقت کو مفلوج کر دیا ہے، یہاں تک کہ جنگی جہاز اور طیارہ بردار بحری بیڑے بھی ان حملوں کو روکنے یا سراغ لگانے میں ناکام رہے ہیں۔
یمنی میزائل اسرائیل کے گرد گھیرا تنگ کر رہے ہیں
بریگیڈیئر ابی رعد نے سید عبدالملک الحوثی کے حالیہ بیان کو "فیصلہ کن اعلان” قرار دیا اور کہا کہ یمن کے مسلسل میزائل حملے اسرائیلی سماج میں نہ صرف سماجی بلکہ نفسیاتی مفلوجی پیدا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غیر ملکی ایئر لائنز کی جانب سے پروازیں معطل کیے جانے کے باعث معیشت، سیاحت اور خدمات کے شعبے پر شدید دباؤ ہے، اور ہر میزائل حملے پر پناہ گاہوں کی جانب بھاگتے لاکھوں اسرائیلیوں پر نفسیاتی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ حتیٰ کہ اسرائیلی فوج نے اب خطرے کے سائرن سے قبل ایس ایم ایس خبرداریاں بھیجنا شروع کر دی ہیں، جو ریاست میں پائی جانے والی گہری پریشانی کی عکاسی کرتا ہے۔
اگرچہ یہ دباؤ نیتن یاہو کے سخت گیر مؤقف یا غزہ میں جاری نسل کشی کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوا، تاہم یمنی کارروائیوں کی مؤثریت میں نمایاں اضافہ ضرور ظاہر کرتا ہے۔
طاقت کا توازن بدل رہا ہے
امریکی عسکری برتری کا مقابلہ کرنے کی یمن کی صلاحیت پر بات کرتے ہوئے ابی رعد نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے صنعاء، راس عیسیٰ اور الحدیدہ میں شہری ہوائی اڈوں اور تنصیبات پر حملے دراصل یمنی حملوں سے پیدا ہونے والے عسکری، سیاسی اور اقتصادی دباؤ کا نتیجہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کئی اسرائیلی صحافی اور مبصرین اب اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ اگر میزائل حملے نہ روکے جا سکے تو جنگ روک دی جائے۔ صرف اقتصادی نقصان ہی پانچ ماہ میں 4.6 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جو بندرگاہوں اور فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے ہوا۔ غزہ میں اسرائیلی افواج کے جانی نقصانات اور خاص طور پر الشجاعیہ جیسے علاقوں میں مزاحمتی جنگجوؤں کی استقامت نے اسرائیل کو نیم مفلوج حالت میں پہنچا دیا ہے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق 27 فیصد سے زائد اسرائیلی آبادکار علاقے چھوڑ چکے ہیں اور واپس نہیں لوٹے، جبکہ طلبہ اور ملازمین بار بار پناہ گاہوں میں جانے کے باعث شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں۔
ابی رعد نے گفتگو کے اختتام پر کہا کہ یمن کے پاس اب بھی کئی سرپرائز باقی ہیں، اور وہ جنگ کے وقت اور مقام کا تعین خود کرتا ہے۔ حالیہ اعلان کہ حائفہ کی بندرگاہ کو نشانہ بنایا جائے گا، اس بات کا ثبوت ہے کہ یمن مسلسل اسرائیل کے لیے بے یقینی اور عدم استحکام کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔
2023 کے آخر میں اسرائیل کی غزہ پر جنگ کے آغاز سے یمن علاقائی مزاحمتی محور کا ایک کلیدی رکن بن کر ابھرا ہے۔ یمن نے اسرائیلی علاقوں اور اس سے منسلک بین الاقوامی بحری جہازوں کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ ان کارروائیوں کو فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی اور اسرائیلی و مغربی عسکری بالادستی کو چیلنج کرنے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

