منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیسعودی عرب، قطر اور امارات کی ٹرمپ کو ایران پر حملے کی...

سعودی عرب، قطر اور امارات کی ٹرمپ کو ایران پر حملے کی مخالفت
س

مشرق وسطیٰ – ایک امریکی خبررساں ادارے "اکسیوس” کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حالیہ دورۂ خلیجی ریاستوں کے دوران واضح طور پر بتایا ہے کہ وہ ایران پر کسی ممکنہ امریکی فوجی حملے کی مخالفت کرتے ہیں۔

اکسیوس نے باخبر ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ 13 سے 16 مئی کے درمیان مغربی ایشیا کے دورے کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، اماراتی صدر محمد بن زاید اور قطری امیر تمیم بن حمد آل ثانی نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقاتوں میں زور دیا کہ وہ تہران کے ساتھ نئے جوہری معاہدے کی طرف پیش قدمی کریں۔

امریکی و ایرانی حکام کے درمیان 12 اپریل سے اب تک پانچ دور کی جوہری بات چیت ہو چکی ہے، اور ایک اور ملاقات متوقع ہے تاکہ ایک نئے معاہدے پر اتفاق کیا جا سکے۔ دونوں ممالک کے درمیان یورینیم افزودگی کی سطح پر اختلافات موجود ہیں۔

بدھ کے روز ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کو ذاتی طور پر خبردار کیا کہ وہ ان مذاکرات کو سبوتاژ نہ کریں۔

اکسیوس کے مطابق، اگرچہ خلیجی ریاستیں ماضی میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی مخالف رہی ہیں، تاہم اب ان کا مؤقف واضح طور پر سفارت کاری کے حق میں ہے، کیونکہ انہیں اندیشہ ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں ایران کی جوابی کارروائی کا ہدف وہی ہوں گی، خاص طور پر اس لیے کہ ان تینوں ممالک میں امریکی فوجی اڈے قائم ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سعودی، اماراتی اور قطری رہنماؤں نے ٹرمپ کو براہِ راست بتایا کہ کسی بھی عسکری تصادم کی صورت میں اس کے سنگین نتائج ان ہی کے ممالک کو بھگتنا ہوں گے۔

عرب قیادت کو اس بات پر بھی تشویش ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو یکطرفہ اقدامات کر سکتے ہیں یا ٹرمپ کو مذاکرات ترک کر کے فوجی کارروائی پر آمادہ کر سکتے ہیں۔

ریاض، دوحہ اور ابوظبی نے ایران کے خلاف اسرائیلی حملے پر بھی خدشات کا اظہار کیا اور ایک بار پھر مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کی حمایت دہرائی۔

رپورٹ کے مطابق، 2015 میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے کے بعد سے خلیجی ریاستوں کے مؤقف میں تبدیلی آئی ہے، اور ان کی موجودہ ترجیح علاقائی استحکام اور اقتصادی ترقی ہے۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم اقدامات کر چکے ہیں، جن میں اعلیٰ سطحی سفارتی دورے بھی شامل ہیں۔

حال ہی میں سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے تہران کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔ اس دورے کو سعودی عرب کی جانب سے ایران پر کسی ممکنہ حملے کی مخالفت اور خلیج میں مکالمے اور سفارت کاری کی حمایت کے مضبوط اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سعودی عرب گزشتہ دو برسوں کے دوران ایران کے ساتھ بتدریج تعلقات معمول پر لانے کے اقدامات کر رہا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین