منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیداعش کا شام میں سابق اتحادیوں پر پہلا حملہ

داعش کا شام میں سابق اتحادیوں پر پہلا حملہ
د

مشرق وسطیٰ – دہشت گرد تنظیم داعش نے شام میں القاعدہ سے منسلک عسکری گروہ "تحریر الشام” (ایچ ٹی ایس) کی زیرقیادت انتظامیہ پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ یہ حملہ اس کے سابق اتحادیوں پر پہلا حملہ ہے جو شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سامنے آیا ہے۔

جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں، جسے امریکی ادارے "سائٹ انٹیلیجنس گروپ” نے رپورٹ کیا، داعش نے دعویٰ کیا کہ اس نے جنوبی صوبہ السویدہ میں ایچ ٹی ایس فورسز کی ایک گاڑی پر "بارودی ڈیوائس” نصب کی۔

"سائٹ” اور برطانیہ میں قائم نام نہاد "شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق” (SOHR) کے مطابق، یہ شام کی نئی انتظامیہ پر داعش کا پہلا دعویٰ کردہ حملہ ہے۔

ایس او ایچ آر کے مطابق، ایچ ٹی ایس سے وابستہ 70ویں ڈویژن کے تین اہلکار اس وقت زخمی ہوئے جب بدھ کے روز ان کی گشتی پارٹی پر ایک ریموٹ کنٹرول بارودی سرنگ سے حملہ کیا گیا۔ اس واقعے میں ان کے ساتھ موجود ایک شہری ہلاک ہو گیا۔

ابو محمد الجولانی، جو پہلے القاعدہ اور داعش دونوں میں سینئر کمانڈر رہ چکے ہیں، اس وقت شام کے "دی فیکٹو” صدر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

گزشتہ دسمبر میں، ایچ ٹی ایس کی قیادت میں مسلح گروہوں نے شام کے دارالحکومت پر مکمل قبضے اور صدر اسد کی حکومت کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے حالیہ بیان میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ دسمبر میں شام پر ایچ ٹی ایس کے قبضے میں اسرائیلی فوج نے مدد فراہم کی۔

ایچ ٹی ایس – جو القاعدہ کا ذیلی گروہ تصور کیا جاتا ہے – کے زیر اقتدار شام میں سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی نازک ہے۔ مارچ میں علوی اقلیت کے سینکڑوں افراد کے قتلِ عام سمیت متعدد فرقہ وارانہ واقعات نے اقلیتوں میں ایچ ٹی ایس کی بالادستی کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین