منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیغزہ میں لڑنے سے انکار، دو اسرائیلی فوجی قید

غزہ میں لڑنے سے انکار، دو اسرائیلی فوجی قید
غ

مشرقِ وسطیٰ – خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوجی عدالت نے نہال بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے دو فوجیوں کو غزہ کی پٹی میں دوبارہ لڑائی میں جانے سے انکار پر قید کی سزا سنائی ہے۔ تل ابیب حکومت گزشتہ برس اکتوبر سے غزہ میں نسل کش جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔

اسرائیلی پبلک براڈکاسٹر "کان” کے مطابق، اگرچہ اسرائیلی فوج پہلے یہ اعلان کر چکی تھی کہ جنگ میں واپسی سے انکار کرنے والے فوجیوں کو قید نہیں کیا جائے گا، تاہم ان دو فوجیوں کو جسمانی و ذہنی تھکن کے باعث لڑائی میں واپس جانے سے انکار پر سزا دی گئی۔

رپورٹ کے مطابق دونوں فوجیوں کو، جو اگست 2022 میں بھرتی ہوئے تھے، بالترتیب 15 اور 20 دن قید کی سزا دی گئی ہے۔

براڈکاسٹر نے بتایا کہ دونوں نے اپنے بٹالین کمانڈر کو بتایا کہ ڈیڑھ سالہ مسلسل آپریشنز کے باعث وہ شدید تھکن کا شکار ہو چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں نہال بریگیڈ کے 11 فوجیوں نے اپنے کمانڈر کو درخواست دی تھی کہ وہ تھکن کی وجہ سے غزہ جانے سے مستثنیٰ رکھے جائیں۔ جواباً کمانڈر نے دھمکی دی کہ انکار کرنے پر انہیں 20 دن قید کی سزا دی جائے گی۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ اسرائیلی فوجیوں نے غزہ میں داخلے سے انکار کیا ہو۔

عبرانی زبان کے ذرائع ابلاغ نے مئی کے آغاز میں رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں متوقع "وسیع تر” آپریشن کی تیاری کے سلسلے میں دسیوں ہزار ریزرو فوجیوں کو طلبی کے احکامات جاری کیے ہیں۔

یہ احکامات اسرائیلی مقبوضہ علاقوں میں ایک نئی بحث کا سبب بنے ہیں، جہاں فوجیوں اور ان کے اہل خانہ میں طویل جنگ اور اس کے غیر واضح اہداف پر مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔

تل ابیب یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، ان ریزرو فوجیوں میں سے تقریباً 12 فیصد ایسے شدید ذہنی دباؤ (پی ٹی ایس ڈی) میں مبتلا ہیں کہ وہ دوبارہ عسکری خدمات کے قابل نہیں رہے۔ اس تحقیق کو اسرائیلی اخبار "ہارٹز” نے شائع کیا۔

7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملے میں اب تک کم از کم 54,249 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ 123,492 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت نے گزشتہ نومبر میں اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

اسرائیل غزہ کی محصور پٹی میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کے مقدمے کا بھی سامنا کر رہا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین