چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے جمعہ کی صبح جنوبی چین کے خصوصی انتظامی علاقے ہانگ کانگ میں بین الاقوامی ثالثی تنظیم کے قیام سے متعلق کنونشن کی دستخطی تقریب میں شرکت کی۔
یہ تنظیم بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے ثالثی کو مخصوص بنیاد بنانے والی دنیا کی پہلی بین الحکومتی قانونی تنظیم ہے، جس کی تجویز 2022 میں چین اور 18 دیگر ممالک نے مشترکہ طور پر پیش کی تھی۔
تقریب کے دوران 32 ممالک کے نمائندوں نے کنونشن پر دستخط کیے اور بین الاقوامی ثالثی تنظیم (IOMed) کے بانی رکن ممالک بن گئے، جبکہ 50 سے زائد ممالک اور قریب 20 بین الاقوامی تنظیموں کے اعلیٰ سطحی نمائندوں نے تقریب میں شرکت کی۔
وانگ ای، جو کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن بھی ہیں، نے تنظیم کے بانی رکن ممالک کو مبارکباد دی اور کہا کہ تمام شرکاء پرامن انداز میں تنازعات کے حل اور اقوام کے درمیان دوستانہ تعاون کے فروغ کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس سے قبل کوئی بھی بین الحکومتی قانونی ادارہ بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کے لیے مخصوص نہیں تھا۔ IOMed اس خلا کو پُر کرے گا اور ریاستوں، ریاستوں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے درمیان، نیز بین الاقوامی تجارتی تنازعات کے حل کے لیے رضاکارانہ بنیاد پر ثالثی فراہم کرے گا۔
وانگ نے کہا کہ یہ ادارہ عالمی حکمرانی کو مضبوط بنانے اور قانون کی حکمرانی کے فروغ کے لیے ایک اہم عالمی عوامی خدمت (public good) کے طور پر کام کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کنونشن میں شامل ممالک کی مشاورت سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس تنظیم کا صدر دفتر ہانگ کانگ میں قائم کیا جائے گا۔
وانگ کے مطابق ہانگ کانگ کو کامن لا اور سول لا کے امتزاج پر مشتمل منفرد قانونی نظام حاصل ہے، جو اسے بین الاقوامی ثالثی کے شعبے میں نمایاں برتری فراہم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ IOMed اور ہانگ کانگ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ترقی کریں گے اور ایک دوسرے کی تکمیل کریں گے۔
چین نے توقع ظاہر کی کہ تمام دستخط کنندگان جلد از جلد کنونشن کی توثیق کریں گے اور مزید ممالک اس تنظیم میں فعال طور پر شمولیت اختیار کریں گے۔
تنظیم کے باقاعدہ طور پر کام کا آغاز 2026 کے اوائل میں متوقع ہے۔
جمعے کی شام کو بین الاقوامی ثالثی پر عالمی فورم کا انعقاد بھی کیا جائے گا، جس میں "ریاستوں کے درمیان تنازعات کی ثالثی” اور "ریاست اور غیر ملکی سرمایہ کاروں یا تجارتی تنازعات کی ثالثی” سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
اس دستخطی تقریب میں اقوام متحدہ سمیت 50 سے زائد ممالک اور 20 کے قریب بین الاقوامی تنظیموں کے اعلیٰ سطحی نمائندوں، سابق عالمی شخصیات اور ممتاز بین الاقوامی ماہرین نے شرکت کی۔

