منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیاسرائیل کی جنگ بندی پر آمادگی، حماس غور کر رہی ہے

اسرائیل کی جنگ بندی پر آمادگی، حماس غور کر رہی ہے
ا

وائٹ ہاؤس نے جمعرات کے روز تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے امریکا کے مجوزہ منصوبے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ وہ اس منصوبے کا جائزہ لے رہی ہے، حالانکہ اس کی شرائط تنظیم کے مطالبات پر پوری نہیں اترتیں۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزہ میں قید یرغمالیوں کے اہل خانہ کو بتایا کہ اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وِٹکوف کے پیش کردہ منصوبے کو قبول کر لیا ہے۔ نیتن یاہو کے دفتر نے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی، تاہم واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ اسرائیل نے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، اگرچہ انہوں نے تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

سی بی ایس نیوز کے مطابق ایک اسرائیلی عہدیدار اور امریکا سے تعلق رکھنے والے ایک باخبر ذریعے نے بتایا ہے کہ مجوزہ منصوبے میں 60 روزہ جنگ بندی، 10 زندہ یرغمالیوں کی رہائی اور 18 جاں بحق یرغمالیوں کی باقیات کی حوالگی شامل ہے۔

حماس کا کہنا ہے کہ اسے وِٹکوف کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے ایک نیا جنگ بندی منصوبہ موصول ہوا ہے، جس کا اس کی قیادت جائزہ لے رہی ہے۔

حماس کے سیاسی شعبے کے رکن باسم نعیم نے کہا کہ اسرائیلی مؤقف فلسطینیوں کے کلیدی مطالبات کو نظر انداز کرتا ہے، جن میں مکمل جنگ بندی اور غزہ کی طویل عرصے سے جاری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔

ان کے بقول، "یہ منصوبہ قابض قوت کو جاری رکھنے اور انسانی مصائب کو کسی بھی عارضی جنگ بندی کے دوران بھی قائم رکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔” تاہم انہوں نے کہا کہ "تحریک کی قیادت اس تجویز کا قومی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ جائزہ لے رہی ہے، خاص طور پر موجودہ تشدد اور انسانی بحران کے پیشِ نظر۔”

حماس اور اسرائیل کے درمیان گہرے اختلافات نے مارچ میں ناکام ہونے والی جنگ بندی کی بحالی کی متعدد کوششوں کو روک رکھا ہے۔

اسرائیل کا اصرار ہے کہ جنگ بندی سے پہلے حماس مکمل طور پر غیر مسلح ہو اور بطور عسکری و انتظامی قوت تحلیل کی جائے، نیز غزہ میں موجود تمام 58 یرغمالیوں کو واپس کیا جائے۔ دوسری جانب، حماس نے ہتھیار ڈالنے کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے اور اسرائیل سے افواج کے انخلا اور جنگ کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسرائیل کو بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کا سامنا ہے، حتیٰ کہ وہ یورپی ممالک بھی جو عموماً اسرائیل پر کھل کر تنقید نہیں کرتے، اب جنگ کے خاتمے اور بڑے پیمانے پر امدادی کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے غزہ میں اپنا فوجی آپریشن 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کے جواب میں شروع کیا تھا، جس میں اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 1,200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنا کر غزہ لے جایا گیا تھا۔

غزہ کے صحت حکام کے مطابق، اسرائیلی حملوں میں اب تک 54,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ علاقہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین