اسپین نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 22 نئی اسرائیلی بستیوں کی منظوری کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔
میڈرڈ میں وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا:
"مغربی کنارے میں قائم کردہ یہ بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں، دو ریاستی حل کو کمزور کرتی ہیں اور امن کے لیے خطرہ ہیں۔”
اسپین نے مغربی کنارے میں اسرائیلی افواج کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ فلسطینی گھروں کی مسماری، آبادکاروں کے تشدد میں اضافہ، اور ہزاروں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی جیسے اقدامات بین الاقوامی انسانی قانون کی واضح خلاف ورزیاں ہیں۔
اسپین نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے ایک خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے، جس میں غزہ، مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم بطور دارالحکومت شامل ہوں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ سمیت عالمی برادری کی اکثریت مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیتی ہے۔

