سنگاپور: فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے غزہ میں بگڑتے انسانی بحران پر اسرائیلی حکومت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تل ابیب نے فوری اور مؤثر اقدام نہ کیا تو فرانس اسرائیلی افراد پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کرے گا۔
جمعہ کے روز سنگاپور کے دورے کے دوران وزیرِاعظم لارنس وونگ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں میکرون نے کہا کہ عالمی برادری فلسطینیوں کی بھوک اور بدحالی پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ “انسانی امداد کی ناکہ بندی زمین پر ایک ناقابلِ برداشت صورتحال پیدا کر رہی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا: “اگر آئندہ چند گھنٹوں یا دنوں میں انسانی تقاضوں کے مطابق کوئی جواب نہ آیا تو ہمیں اپنے اجتماعی مؤقف کو سخت بنانا پڑے گا۔” انہوں نے عندیہ دیا کہ فرانس اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے حال ہی میں بین الاقوامی دباؤ کے تحت غزہ میں معمولی مقدار میں خوراک اور ادویات داخل ہونے دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم یہ امداد ایک نئی این جی او کے ذریعے دی جا رہی ہے جسے اسرائیل اور امریکا کی حمایت حاصل ہے۔ اس امداد کی فراہمی کے دوران لوٹ مار اور پرتشدد مناظر سامنے آئے ہیں۔
میکرون نے اپنی گفتگو میں اسرائیل کے انسانی حقوق کے احترام سے متعلق “غلط مفروضوں” کو ترک کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
انہوں نے کہا: “میں اب بھی امید کرتا ہوں کہ اسرائیلی حکومت اپنا مؤقف بدلے گی اور ہمیں بالآخر ایک انسانی ردعمل دیکھنے کو ملے گا۔”
فلسطینی ریاست: اخلاقی فریضہ یا سیاسی ناگزیر؟
فرانسیسی صدر نے فلسطینی ریاست کے قیام کو “نہ صرف اخلاقی فریضہ بلکہ سیاسی ناگزیر ضرورت” قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کے قیام کے لیے مخصوص شرائط کی ضرورت ہو گی۔
یہ بیان ان کے اور انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو کے مشترکہ اعلامیے کے بعد سامنے آیا، جس میں اسرائیل کے جانب سے غزہ پر قبضے یا وہاں کی آبادی کی جبری بے دخلی کے کسی بھی منصوبے کی مذمت کی گئی تھی۔
پیرس کی کوشش ہے کہ فلسطینی ریاست کے مشروط قیام کے لیے عالمی حمایت حاصل کی جائے، جس میں خاص طور پر حماس کی غیر مسلح کاری کو مرکزی شرط قرار دیا جا رہا ہے۔
فرانسیسی حکام اقوامِ متحدہ کے تحت 17 سے 20 جون کے درمیان فرانس اور سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والی ایک کانفرنس کی تیاری کر رہے ہیں، جس میں فلسطینی ریاست کے قیام کا روڈمیپ اور اسرائیل کی سلامتی کے تقاضے زیرِ بحث آئیں گے۔
تاہم سفارتی حلقے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی کوششیں اسرائیل کو سخت ناپسند ہوں گی اور مغربی دنیا میں مزید اختلافات کو جنم دے سکتی ہیں۔
غزہ میں قحط کی دہلیز
اگرچہ اسرائیلی ناکہ بندی کے بعد اب غزہ میں تھوڑی بہت امداد داخل ہو رہی ہے، مگر انسانی بحران انتہائی تشویشناک ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ہر پانچ میں سے ایک فرد قحط کے دہانے پر ہے۔
اسرائیل اور امریکا کی حمایت سے قائم نجی ادارہ ‘غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن’ (GHF) نے جمعرات کو اپنی امدادی سرگرمیوں میں توسیع کی، تاہم اقوامِ متحدہ اور دیگر امدادی اداروں نے ان اقدامات کو ناکافی، غیر منظم اور انسانی اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔
GHF کے امدادی مراکز بدامنی اور افراتفری کا منظر پیش کر رہے ہیں، جہاں خوراک کی تلاش میں بے قرار افراد سیکیورٹی اہلکاروں پر ہجوم کر رہے ہیں۔ ہفتے بھر ان مقامات پر شدید بدنظمی دیکھی گئی۔
الجزیرہ کے ایک نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ جمعہ کے روز غزہ کے مرکزی علاقے میں GHF کے امدادی مرکز کے قریب اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے کئی افراد زخمی ہوئے، جو امداد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
دریں اثنا اقوامِ متحدہ کی ریلیف ایجنسی UNRWA نے کہا ہے کہ وہ اردن کے دارالحکومت عمان میں موجود اپنے گوداموں سے خوراک، صفائی کا سامان اور طبی امداد غزہ پہنچانے کے لیے تیار ہے، اگر رسائی کی اجازت دی جائے۔
ادھر اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ امریکا نے ایک نیا مجوزہ معاہدہ پیش کیا ہے، جس پر حماس کا کہنا ہے کہ یہ ابھی زیرِ غور ہے، تاہم موجودہ شکل میں یہ صرف “قتل و قحط کے تسلسل” کا باعث بنے گا۔

