منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیامریکہ چینی طلباء کے ویزے "جارحانہ انداز" میں منسوخ کرے گا، روبیو...

امریکہ چینی طلباء کے ویزے "جارحانہ انداز” میں منسوخ کرے گا، روبیو کا اعلان
ا

ٹرمپ انتظامیہ کا اعلان: چینی طلباء کے ویزے جارحانہ انداز میں منسوخ کیے جائیں گے، امریکی جامعات پر دباؤ میں اضافہ

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت چینی طلباء کے ویزے "جارحانہ انداز” میں منسوخ کرے گی، جنہیں امریکی جامعات کے لیے آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ اقدام امریکی اعلیٰ تعلیمی اداروں کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی بڑھتی ہوئی مہم کا تازہ ترین حصہ ہے۔

یہ اعلان اُس وقت سامنے آیا جب چین نے امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے دنیا بھر کے طلباء کے لیے ویزا اپائنٹمنٹس عارضی طور پر معطل کرنے کے فیصلے پر تنقید کی۔

روبیو نے اپنے بیان میں کہا کہ:

"ہم ان تمام چینی طلباء کے ویزے منسوخ کریں گے جن کا تعلق چینی کمیونسٹ پارٹی سے ہے یا جو اہم اور حساس شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ہم ویزا پالیسیوں پر نظرثانی کریں گے اور چین و ہانگ کانگ سے مستقبل میں آنے والی تمام ویزا درخواستوں کی جانچ پڑتال مزید سخت بنائیں گے۔”

چینی طلباء طویل عرصے سے امریکی جامعات کے لیے بہت اہم رہے ہیں، کیونکہ یہ ادارے مکمل فیس ادا کرنے والے بین الاقوامی طلباء پر انحصار کرتے ہیں۔ 2023-24 کے تعلیمی سال میں چین سے 2,77,398 طلباء امریکہ آئے، اگرچہ اس سال بھارت نے پہلی مرتبہ اسے پیچھے چھوڑ دیا۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ روبیو کی ہدایت پر منگل کے روز امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ کسی نئے اسٹوڈنٹ یا تبادلہ پروگرام ویزا کی اپائنٹمنٹ کی اجازت نہ دیں، جب تک سوشل میڈیا کی مزید سخت جانچ کے لیے نئی ہدایات جاری نہ کی جائیں۔

روبیو نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ہزاروں بین الاقوامی طلباء کے ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں، خاص طور پر اُن طلباء کے جو اسرائیل مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔

دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے کہا کہ بیجنگ نے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی طلباء، بشمول چینی طلباء، کے قانونی حقوق اور مفادات کا تحفظ کرے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اس سے پہلے بھی ہارورڈ یونیورسٹی جیسے اداروں پر دباؤ ڈالا تھا، جو اس کی داخلہ پالیسیوں اور فیکلٹی بھرتیوں پر نگرانی کی کوششوں کو مسترد کر چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ہارورڈ پر "یہودی مخالف جذبات” اور "جاگے ہوئے” (woke) نظریات کا گڑھ ہونے کا الزام بھی لگایا ہے۔

حکومت نے ہارورڈ سمیت دیگر معتبر امریکی جامعات سے تحقیقی فنڈز بھی واپس لے لیے ہیں۔ ہارورڈ نے ان اقدامات کے خلاف عدالت میں تفصیلی قانونی چیلنجز دائر کر رکھے ہیں۔

ایک جج نے غیر ملکی طلباء کی ملک بدری سے متعلق حکومتی حکم کو ایک سماعت تک کے لیے مؤخر کر دیا ہے، جو ہارورڈ کی گریجویشن تقریب والے دن کی جائے گی، جب ہزاروں طلباء اور ان کے اہل خانہ کیمبرج، میساچوسٹس میں موجود ہوں گے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین