منگل, فروری 17, 2026
ہومپاکستانمضبوط معیشت کے لیے ڈیجیٹل نظام ناگزیر ہے، وزیر خزانہ

مضبوط معیشت کے لیے ڈیجیٹل نظام ناگزیر ہے، وزیر خزانہ
م

محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس، معیشت کو نقدی سے پاک بنانے پر زور

اسلام آباد:
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منگل کے روز وزارتِ خزانہ میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان کو ڈیجیٹل اور کم نقدی پر انحصار کرنے والی معیشت کی جانب منتقل کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں پاکستان کے مالیاتی شعبے کے سینئر نمائندگان، بشمول کمرشل بینکس، ترقیاتی مالیاتی ادارے، ریگولیٹرز اور سرمایہ کاری ماہرین نے شرکت کی۔ یہ کمیٹی وزیر خزانہ کی جانب سے تشکیل دی گئی ہے تاکہ ملک میں ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے سفارشات مرتب کی جا سکیں۔

اجلاس میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ، مالی خدمات تک رسائی بڑھانے اور روزمرہ معاشی سرگرمیوں میں نقدی کے استعمال میں کمی سے متعلق مختلف تجاویز پر تفصیلی گفتگو ہوئی، اور کئی اہم امور پر اتفاقِ رائے بھی سامنے آیا۔

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کو ریٹیل، خدمات اور سرکاری شعبوں سمیت تمام شعبوں میں قابلِ رسائی بنایا جائے۔ خاص طور پر "راست” فوری ادائیگی نظام کے ذریعے مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے مابین ہم آہنگی کو فروغ دینے پر اتفاق ہوا تاکہ صارفین کو بہتر انتخاب کی سہولت میسر ہو۔

اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ نقدی اور ڈیجیٹل لین دین کے درمیان برابری پیدا کی جائے، اور ایسا مراعاتی ڈھانچہ متعارف کرایا جائے جو صارفین اور کاروباری اداروں کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو مزید پرکشش اور کم خرچ بنائے۔ خاص طور پر چھوٹے تاجروں اور محروم طبقات تک رسائی بڑھانے کے لیے ڈیجیٹل لین دین کے انفرااسٹرکچر سے منسلک لاگت کو بہتر بنانا ایک ترجیح قرار دیا گیا۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کمیٹی کی سفارشات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن پاکستان کے اقتصادی جدیدکاری کے ایجنڈے کا مرکزی نکتہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے دائرہ کار کو بڑھانا مالی شفافیت، شمولیت اور سرکاری و نجی شعبے کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مددگار ہوگا۔

انہوں نے زور دیا کہ نقدی سے پاک معیشت کی طرف پیش قدمی محض ایک پالیسی خواہش نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت ہے تاکہ طویل المدتی مالیاتی استحکام، مسابقت اور جامع ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

وزیر خزانہ نے کہا،
"ڈیجیٹلائزیشن ایک جدید مالیاتی نظام کی بنیاد ہے۔ ہمیں فوری اور مربوط انداز میں ایسا ادائیگی نظام تشکیل دینا ہوگا جو ہر پاکستانی کے لیے قابلِ استعمال، ہم آہنگ اور جامع ہو۔”

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مالیاتی رسائی کو آسان بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے اور اس حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز میں پالیسی ہم آہنگی ضروری ہے۔

اجلاس کے اختتام پر وزیر خزانہ نے کمیٹی کو ہدایت دی کہ وہ ان اقدامات پر مبنی ایک تفصیلی اور وقت سے بندھا ہوا روڈمیپ تیار کرے۔

وزیر خزانہ سے اسٹیل پروڈیوسرز کی ملاقات

اسی روز وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج اسٹیل پروڈیوسرز کے سرپرست اعلیٰ عباس اکبر علی کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی۔

وفد نے اسٹیل انڈسٹری کو درپیش اہم مسائل پر روشنی ڈالی، جن میں توانائی کی بلند قیمتیں، ریگولیٹری بے یقینی اور پالیسی کے تسلسل کی کمی شامل ہیں۔ وفد نے بتایا کہ موجودہ ٹیکس پالیسیوں کا رسمی کاروبار پر بوجھ بڑھ رہا ہے اور حکومت سے مساوی مواقع فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

وزیر خزانہ نے ان مسائل کا نوٹس لیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ حکومت معیشت کے پیداواری شعبوں کی بھرپور حمایت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیل سیکٹر انفرااسٹرکچر کی ترقی اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، اور ان کے مشورے بجٹ سازی اور پالیسی اجلاسوں میں شامل کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا:
"پاکستان کی اقتصادی بحالی اجتماعی ذمہ داری کا تقاضا کرتی ہے۔ ہم بوجھ کو صرف رسمی شعبے اور تنخواہ دار طبقے پر نہیں ڈال سکتے۔”

وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، زیادہ ٹیکس دیے جانے والے شعبوں پر انحصار کم کرنے اور غیر دستاویزی معیشت کو رسمی دائرے میں لانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کی سربراہی میں باقاعدہ اجلاس ہو رہے ہیں جن کا مقصد اقتصادی نظم و نسق کو بہتر بنانا اور تمام شعبوں میں انصاف کو یقینی بنانا ہے۔ وزیر خزانہ نے صنعت اور حکومت کے درمیان مسلسل مکالمے پر زور دیا تاکہ اصلاحات کو زمینی حقائق کے مطابق بنایا جا سکے، اور پالیسی کو شفاف، جامع اور ترقیاتی بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین