18 ہزار سے زائد این جی اوز کام کر رہی ہیں، صرف ایک ہزار رجسٹرڈ
اسلام آباد:
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ کو منگل کے روز بتایا گیا کہ ملک بھر میں 18 ہزار سے زائد غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز) سرگرم عمل ہیں، تاہم ان میں سے صرف ایک ہزار کے لگ بھگ تنظیمیں باضابطہ طور پر رجسٹرڈ ہیں، جبکہ باقی تنظیمیں حکومتی نگرانی کے بغیر کام کر رہی ہیں۔
کمیٹی نے غیر رجسٹرڈ این جی اوز کی موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں قومی سلامتی سے متعلق حساس معاملات کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیا اور اس شعبے کو منظم کرنے کے لیے قومی سطح کے ریگولیٹری فریم ورک کی تشکیل کی سفارش کی۔
اجلاس کے دوران کمیٹی کو مختلف فلاحی منصوبوں، خصوصاً ان کے مقررہ تکمیل کے اوقات سے متعلق پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔
کمیٹی نے منصوبوں کی بروقت تکمیل میں تاخیر پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جوابدہی کے مؤثر نظام پر زور دیا۔
ایک پائلٹ منصوبے کی مقررہ مدت (جولائی) تک عدم تکمیل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کمیٹی نے سیکرٹری خزانہ اور سیکرٹری صنعت و پیداوار کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔
کمیٹی نے گورنر اسٹیٹ بینک اور نجی بینکوں کے سربراہان کو بھی آئندہ اجلاس میں پیش ہونے کی ہدایت کی، تاکہ غربت کے خاتمے سے متعلق پروگراموں میں بینکوں کے ساتھ درپیش ہم آہنگی کے مسائل کا جائزہ لیا جا سکے۔
وزیراعظم کے رمضان ریلیف پیکیج پر بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ 35 لاکھ مستحق خاندانوں میں سے 27 لاکھ کو ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے مالی معاونت فراہم کی جا چکی ہے۔

