منگل, فروری 17, 2026
ہومپاکستانتمباکو نوشی سے پاکستان کو سالانہ 2.5 ارب ڈالر کا نقصان

تمباکو نوشی سے پاکستان کو سالانہ 2.5 ارب ڈالر کا نقصان
ت

ہر سال 1 لاکھ 64 ہزار اموات، ماہرین کا ٹیکس بڑھانے پر زور

اسلام آباد – عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں تمباکو نوشی ہر سال 1 لاکھ 64 ہزار جانیں نگل جاتی ہے اور ملکی معیشت کو تقریباً 2.5 ارب ڈالر (700 ارب روپے) کا نقصان پہنچاتی ہے۔ ادارے نے زندگیوں کو بچانے اور محصولات بڑھانے کے لیے فوری طور پر تمباکو پر ٹیکس میں اضافے کی سفارش کی ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان میں موجود تمام تمباکو مصنوعات، چاہے وہ کسی بھی کمپنی کی ہوں، صحت کے لیے انتہائی مضر ہیں اور خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں جیسے حساس طبقوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ 31 مئی کو "عالمی یوم انسداد تمباکو نوشی” کے موقع پر ڈبلیو ایچ او پاکستان کے ساتھ مل کر اس دیرینہ صحت کے بحران سے نمٹنے کے لیے پُرعزم ہے۔

ادارے کا کہنا تھا کہ تمباکو نوشی کم کرنے کے لیے ٹیکس کو مؤثر آلہ کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس سے نہ صرف استعمال میں کمی آئے گی بلکہ حکومت کے محصولات میں اضافہ ہوگا، جسے صحت اور ترقی کے شعبوں پر صرف کیا جا سکتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو تمباکو نوشی سے عوامی صحت اور معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات پاکستان کی جانب سے 2030 کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کے حصول کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

بیان میں تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ تمباکو پر ٹیکس میں اضافہ، نہ صرف استعمال میں کمی کا باعث بنتا ہے بلکہ تمباکو سے جڑی بیماریوں اور صحت کے نظام پر دباؤ میں بھی نمایاں کمی لاتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق،
"2023 میں پاکستان میں تمباکو پر ٹیکس میں اضافے کے بعد تمباکو نوشی میں 19.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جب کہ 26.3 فیصد افراد نے سگریٹ نوشی کم کر دی۔”
اسی عرصے میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) کے تحت سگریٹ سے حاصل شدہ ریونیو میں 66 فیصد اضافہ ہوا، جو 2022-23 میں 142 ارب روپے سے بڑھ کر 2023-24 میں 237 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین