ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسماعیل باقری نے کہا ہے کہ ایرانی حکام اور افغان عبوری حکومت کے درمیان روابط دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کے لیے ناگزیر ہیں۔
ان کے مطابق، افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے تہران ڈائیلاگ فورم کے موقع پر ایرانی وزیرِ خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام سے تعمیری ملاقاتیں کیں۔
ایرانی ترجمان کا کہنا تھا کہ متقی کی تہران آمد فورم میں شرکت کے لیے تھی، تاہم اس موقع پر کئی اہم دوطرفہ امور پر بھی بات چیت ہوئی۔
ادھر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ ایران اور افغانستان کے درمیان گہرے ثقافتی اور تاریخی تعلقات موجود ہیں، مگر ہلمند دریا کے پانی کا تنازع، افغان مہاجرین کی صورتحال، سرحدی کشیدگی اور افغان حکومت کی غیرتسلیم شدہ حیثیت جیسے مسائل دوطرفہ تعلقات پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کار فضل الرحمن اوریا کے مطابق دونوں ممالک میں اقتصادی اور تجارتی تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر خطے میں استحکام اور ترقی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
تجزیہ کار نجیب الرحمن شمال نے زور دیا کہ پانی کے حقوق، منشیات کی اسمگلنگ اور مہاجرین جیسے مسائل کو حل کیے بغیر دونوں ملکوں کے تعلقات میں پائیدار پیش رفت ممکن نہیں۔
قبل ازیں، تہران ڈائیلاگ فورم سے خطاب میں امیر خان متقی نے متوازن خارجہ پالیسی کی بنیاد پر مثبت روابط کو وقت کی ضرورت قرار دیا تھا۔

