تہران / کابل — ایران میں مقیم متعدد افغان مہاجرین نے ایک بار پھر جبری ملک بدری کے عمل میں شدت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام قانونی اور غیرقانونی مہاجرین کے درمیان تمیز کیے بغیر سب کو ملک بدر کر رہے ہیں، جس سے ہزاروں افغان شہری متاثر ہو رہے ہیں۔
ایران میں مقیم افغان شہری سفر برز نے ٹولو نیوز سے گفتگو میں بتایا:
"بدقسمتی سے، ایرانی حکومت نے افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل نہایت تیز اور سخت بنا دیا ہے۔ یہاں تک کہ قانونی دستاویزات رکھنے والوں کو بھی غیرقانونی مہاجرین کے ساتھ یکساں سلوک کا سامنا ہے۔”
اسی طرح ایک اور افغان مہاجر عنایت علاؤالدزی نے کہا:
"ایرانی حکومت کی جانب سے افغان مہاجرین کی جبری ملک بدری ایک بار پھر شدت اختیار کر چکی ہے۔ متعدد بار بین الاقوامی تنظیموں اور امارتِ اسلامیہ سے درخواست کی گئی کہ ایران پر دباؤ ڈالیں، مگر یہ کوششیں بے اثر ثابت ہوئیں۔”
مہاجرین کے حقوق کے سرگرم کارکنان نے دونوں ملکوں کے درمیان باضابطہ اور سنجیدہ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ افغان مہاجرین کو درپیش بحران کا دیرپا حل نکالا جا سکے۔
جمعہ خان پویا، ایک مہاجر حقوق کے کارکن نے کہا:
"میزبان حکومتوں کو بین الاقوامی اصولوں کے تحت مجبور کیا جانا چاہیے کہ وہ ایسے افراد کو جبری طور پر بے دخل نہ کریں جن کی جان یا آزادی کو خطرہ ہو۔”
اسی موضوع پر سرگرم ایک اور کارکن نظر نظاری نے کہا:
"ایران اور افغانستان کے درمیان ایسی بات چیت کی ضرورت ہے جو دونوں فریقوں کو مطمئن کرے اور جس سے اس انسانی بحران کا کوئی قابل قبول حل نکلے۔”
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ پہلے ہی اس بات کی تصدیق کر چکی ہے کہ 2023 سے اب تک ایران اور پاکستان تین ملین سے زائد افغان مہاجرین کو جبری طور پر وطن واپس بھیج چکے ہیں۔

