کابل — اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور (OCHA) نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان کی تقریباً 48 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے، جو ملک میں جاری انسانی بحران کی شدت کی عکاسی کرتا ہے۔
پیر کے روز جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2025 میں اندازاً 2 کروڑ 29 لاکھ افغان شہریوں کو انسانی امداد درکار ہو گی، جن میں سے 1 کروڑ 48 لاکھ افراد خوراک کی شدید عدم دستیابی کا شکار ہوں گے۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ افغانستان میں تین ملین سے زائد افراد ایسے علاقوں میں رہائش پذیر ہیں جو بغیر پھٹے بموں اور بارودی مواد سے آلودہ ہیں، جو ان کی زندگی اور روزگار کے لیے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ادارے نے خبردار کیا ہے:
"یہ محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ انسانی المیہ ہے۔ اگر بروقت اور مؤثر فنڈنگ فراہم نہ کی گئی تو اس کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔”
افغانستان میں انسانی امداد کا شعبہ شدید مالی قلت کا شکار ہے۔ سال 2025 کے لیے اقوامِ متحدہ نے 2.4 ارب ڈالر سے زائد امداد کی اپیل کی ہے، تاہم اب تک اس کا صرف 12 فیصد حصہ ہی حاصل ہو سکا ہے۔
بین الاقوامی امداد میں نمایاں کمی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ امریکہ، جو ماضی میں افغانستان کا سب سے بڑا عطیہ دہندہ تھا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں غیر ملکی امداد منقطع کر چکا ہے، جس کے باعث بنیادی سہولیات اور ہنگامی امداد کے لیے فنڈنگ کا شدید بحران پیدا ہو چکا ہے۔

