اسرائیلی فوج کی شام میں دوبارہ دراندازی، اسرائیل-شام خفیہ مذاکرات کی افواہوں کے درمیان کشیدگی برقرار
قنیطرہ کے دیہات الصمدانیہ الشرقیہ اور الاجراف کے درمیان واقع شامی علاقے میں اسرائیلی قابض فوج نے منگل کی صبح دوبارہ دراندازی کی۔ اس کارروائی میں دو ٹینک اور دو فوجی گاڑیاں شامل تھیں، جو شامی خودمختاری کی ایک واضح خلاف ورزی ہے۔ مقامی شامی ذرائع کے مطابق، یہ پیش رفت اسرائیلی فوج کی گولان کی پہاڑیوں کے قبضے کے قریب بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزیوں میں اضافہ کرتی ہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے شامی سرزمین پر یہ دراندازی ایک عرصے سے جاری ہے، جس میں فضائی حملے اور زمینی چھاپے شامل ہیں۔ اسرائیلی فضائیہ نے متعدد بار شامی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور کئی شامی فوجی ساز و سامان تباہ کیے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ایلی کوہن کے رازدانہ دستاویزات کی شام سے اسرائیل منتقلی
اس تازہ ترین واقعے کے چند ہفتے قبل، ایک اور غیر معمولی اور متنازعہ پیش رفت ہوئی تھی۔ مئی کے مہینے کی دوسری تاریخ کو جنوبی شام کے السویداء میں ایک ہیلی کاپٹر نے اسرائیلی جاسوس ایلی کوہن کے خفیہ دستاویزات اسرائیل کو حوالے کیے۔ ایلی کوہن کو شامی دارالحکومت دمشق میں تقریباً چھ دہائی قبل پھانسی دی گئی تھی۔
اسرائیلی صحافی باروخ یدید کے مطابق، جنہوں نے i24NEWS پر بات کی، یہ دستاویزات شام کے صدر بشار الاسد کی طرف سے ایک اشارے کے طور پر دی گئیں جو نہ صرف اسرائیل بلکہ امریکہ کے لیے بھی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہیلی کاپٹر نے اردن یا لبنان کی فضائی حدود کا استعمال نہیں کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کارروائی میں اعلیٰ سطح کی کوآرڈینیشن اور منظوری شامل تھی۔
اسرائیل اور شام کے تعلقات: خفیہ مذاکرات یا محض سیاسی چال؟
دمشق کی طرف سے اس حوالے سے باضابطہ کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، لیکن اس اقدام نے دونوں ملکوں کے درمیان خفیہ یا غیر رسمی رابطوں کے امکان کو بڑھا دیا ہے۔ شام اور اسرائیل کے درمیان رسمی سفارتی تعلقات موجود نہیں، اور اسرائیلی فوج کی جانب سے شامی سرزمین کی بار بار خلاف ورزی اس بات کی دلیل ہے کہ تعلقات نہ صرف کشیدہ ہیں بلکہ بے اعتماد بھی ہیں۔
تاہم، دستاویزات کی منتقلی اور ممکنہ خفیہ مذاکرات کی افواہیں یہ سوال اٹھاتی ہیں کہ آیا خطے میں امن کے لیے کوئی پُرامید علامات ہیں یا یہ محض سیاسی کھیل کا حصہ ہے۔ موجودہ دراندازی جیسے اقدامات، جو شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں، ان تمام باتوں پر سائے ڈال رہے ہیں اور مستقبل قریب میں دونوں ممالک کے تعلقات کی سمت کے بارے میں شبہات پیدا کر رہے ہیں۔
نتیجہ
اسرائیلی فوج کی حالیہ دراندازی اور ایلی کوہن کے دستاویزات کی منتقلی جیسے واقعات شام اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی پیچیدگیوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ اگرچہ بظاہر دونوں ممالک کے درمیان خفیہ مذاکرات کے امکانات موجود ہیں، مگر اسرائیل کی جانب سے مسلسل جارحیت اور شامی سرزمین کی خلاف ورزیاں ان مذاکرات کی کامیابی اور استحکام کے لیے بڑی رکاوٹ ہیں۔
اس تناظر میں، خطے کی صورتحال انتہائی نازک اور غیر یقینی بنی ہوئی ہے، جس میں کوئی واضح پیش رفت یا امن کا امکان فوری طور پر دکھائی نہیں دیتا۔

