منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیبرطانوی وکلا کا اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ

برطانوی وکلا کا اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ
ب

823 برطانوی قانونی ماہرین کا کھلا خط: حکومت اسرائیل پر قانونی و اقتصادی پابندیاں عائد کرے

برطانیہ کے 823 ممتاز قانونی ماہرین، جن میں 11 سابق ججز، درجنوں وکلا، بیرسٹرز، اور قانونی ماہرین شامل ہیں، نے ایک کھلا خط دستخط کیا ہے جس میں غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے تناظر میں برطانوی حکومت سے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

خط کی اہم تجاویز:

1. اسرائیلی اہلکاروں پر پابندیاں:

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان "اسرائیلی وزرا، سرکاری اور عسکری اہلکاروں” پر مالیاتی اور امیگریشن پابندیاں عائد کی جائیں جن پر "غیر قانونی اقدامات میں ملوث ہونے کا معقول شبہ” ہو۔

2. تجارتی تعلقات کا ازسرنو جائزہ:

قانونی ماہرین نے زور دیا کہ برطانیہ کو اسرائیل کے ساتھ موجودہ تجارتی روابط کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے اور ان تعلقات کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ساتھ مشروط کرنا چاہیے۔

3. بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے وارنٹس کی تعمیل:

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ برطانیہ واضح کرے کہ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کی جانب سے فلسطینی مقبوضہ علاقوں سے متعلق کسی بھی گرفتاری کے وارنٹ کی مکمل تعمیل کرے گا۔

4. برطانیہ کی بین الاقوامی ذمہ داریاں:

قانونی ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے فرائض کی انجام دہی کرنی ہوگی، خصوصاً ایسے حالات میں جب جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم یا نسل کشی جیسے الزامات سامنے آئیں۔

پس منظر:

یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ نے اسرائیل کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کے مذاکرات معطل کر دیے ہیں، تاہم بہت سے مبصرین اور قانونی ماہرین سمجھتے ہیں کہ یہ اقدامات ناکافی ہیں۔

قانونی برادری میں تقسیم:

دوسری جانب، ایک اور گروپ جس میں 1,000 سے زائد وکلا شامل ہیں، نے ایک علیحدہ خط کے ذریعے اسرائیل پر پابندیوں کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ ایسی پابندیوں کی کوئی قانونی مجبوری نہیں۔

یہ دونوں خطوط برطانیہ میں قانونی برادری کے اندر اس بات پر جاری بحث کو اجاگر کرتے ہیں کہ ملک کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات اور غزہ جنگ پر کیا مؤقف اپنانا چاہیے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین