نئی دہلی — بھارت میں مودی حکومت کی انتہا پسند پالیسیوں اور عسکری ناکامیوں پر اب خود ملک کے سینئر صحافی اور تجزیہ کار بھی آواز بلند کرنے لگے ہیں۔ حالیہ دنوں میں معروف صحافی کرن تھاپر نے دفاعی امور کے ماہر اجے ثانی کا ایک تفصیلی انٹرویو بھارتی ویب چینل دی وائر پر جاری کیا، جس میں حکومت کی عسکری حکمت عملی، میڈیا کے کردار اور زمینی حقائق کا تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا۔
اجے ثانی نے انٹرویو کے دوران بھارتی میڈیا کی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک سوال کے جواب میں، جہاں کرن تھاپر نے پاکستانی ایئر فورس کے مبینہ 20 فیصد نقصان کے دعوے کا حوالہ دیا، اجے ثانی نے واضح کیا کہ یہ صرف مبالغہ آرائی ہے جس کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا ہے۔ ان کے بقول، "بھارتی میڈیا جھوٹ کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی فوجی حکمت عملی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔”
انہوں نے ‘آپریشن سندور’ کو محض ایک سیاسی ڈرامہ قرار دیا جس کے نتیجے میں بھارتی فوجی کمزوریوں کا کھل کر انکشاف ہوا۔ ثانی کے مطابق، پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو کم تر سمجھنا بھارت کے لیے ایک بڑی اسٹریٹجک غلطی ثابت ہو رہا ہے، جب کہ میڈیا میں عوام کو جنگی فضا دکھا کر اصل ناکامیوں سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے۔
مزید برآں، انہوں نے نشاندہی کی کہ حکومت کی ناقص منصوبہ بندی اور حملہ آور حکمت عملی میں فقدان نے عوام کو سخت مایوسی سے دوچار کیا ہے۔ "یہ صرف سیاسی بیانیے کا مسئلہ نہیں، بلکہ بھارت کی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے،” اجے ثانی نے خبردار کیا۔
دوسری جانب کرن تھاپر نے بھی واضح کیا کہ نریندر مودی کی قیادت میں بھارت عالمی سطح پر اپنی جمہوری ساکھ کھو رہا ہے۔ ان کے مطابق، دنیا اب مودی سرکار کی نااہلی اور جھوٹے بیانات کو جان چکی ہے۔
یہ تنقیدی گفتگو اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ مودی حکومت کی پالیسیوں پر صرف عالمی سطح پر ہی نہیں، بلکہ ملک کے اندر بھی شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں — اور اب وہ آوازیں خود بھارتی میڈیا کے ذمہ دار حلقوں سے ابھرنے لگی ہیں۔

