برلن: یورپی مرکزی بینک کی صدر کرسٹین لاگارڈ نے عالمی مالیاتی نظام کے بگڑتے ڈھانچے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی ڈالر کی پشت پناہی سے قائم موجودہ نظام ’ٹوٹ پھوٹ کا شکار‘ ہے، اور یورو کو عالمی ذخیرہ کرنسی کے طور پر اپنانے کی حمایت کی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق، برلن میں ہرٹی اسکول سے خطاب کرتے ہوئے لاگارڈ نے کہا کہ گزشتہ 80 برسوں سے امریکا کی قیادت میں کھلے پن اور کثیرالجہتی پر مبنی جو عالمی معیشت قائم رہی، وہ یورپ سمیت دنیا کے لیے بے شمار فوائد کا ذریعہ بنی، تاہم اب یہ نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈالر کو ریزرو کرنسی کی حیثیت حاصل ہونے کے باعث بین الاقوامی تجارت اور مالیاتی وسعت کو استحکام حاصل ہوا، لیکن حالیہ برسوں میں واشنگٹن کی پالیسیوں نے اس نظام کی بنیادیں کمزور کر دی ہیں۔
لاگارڈ کے مطابق، اس بگاڑ کی ایک بڑی وجہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں اتحادی ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیاں اور تجارتی کشیدگی تھی، جس نے نظام پر عدم اعتماد کو جنم دیا۔
یورپی مرکزی بینک کی صدر نے خبردار کیا کہ اگر عالمی معاشی نظام تحلیل ہوا تو اس کے سنگین نتائج یورپ کو بھی بھگتنا پڑ سکتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ یورو کو ایک متبادل عالمی ذخیرہ کرنسی کے طور پر فروغ دیا جائے۔

