غزہ میں پناہ گزین خاندانوں کے لیے قائم اسکول پر اسرائیلی فضائی حملہ، بچوں سمیت کم از کم 30 فلسطینی شہید
اسرائیلی فضائیہ نے پیر کی صبح غزہ کے علاقے دارج میں واقع فہمی الجرجاوی اسکول پر بمباری کی، جہاں بیئت لاہیا سے نقل مکانی کرنے والے سینکڑوں فلسطینیوں نے پناہ لے رکھی تھی۔
غزہ کے شہری دفاعی حکام اور طبی ذرائع کے مطابق اس حملے میں کم از کم 30 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔
غزہ کے سول ڈیفنس ادارے نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے اسکول سے 20 لاشیں نکالیں، جن میں سے اکثر جھلس چکی تھیں۔ اسکول کی دو کلاس رومز جو عارضی پناہ گاہوں میں تبدیل کی گئی تھیں، حملے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گئیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق شہداء میں حماس کے شمالی غزہ کے تفتیشی شعبے کے سربراہ محمد الکاصح، ان کی اہلیہ اور بچے بھی شامل ہیں۔
اس حملے سے کچھ دیر قبل غزہ شہر کی ثورہ اسٹریٹ پر اسرائیلی فضائی حملے میں ایک رہائشی عمارت اور اس سے متصل خیمے نشانہ بنائے گئے جہاں بے گھر خاندان مقیم تھے۔
اس حملے میں کم از کم 4 افراد شہید ہوئے، جب کہ دھماکے کے نتیجے میں تباہ شدہ عمارت کا ملبہ قریبی خیموں پر گرنے سے مزید جانی نقصان ہوا۔
یہ دونوں حملے شمالی غزہ میں اسرائیلی فوجی مہم میں شدید شدت کی عکاسی کرتے ہیں، جو گزشتہ ایک ہفتے سے بڑھتی جا رہی ہے۔
گزشتہ جمعے کو بھی ایک اسرائیلی حملے میں ڈاکٹر علاء النجار کے گھر کو نشانہ بنایا گیا، جس میں ان کے 10 میں سے 9 بچے شہید ہو گئے۔ حملے میں ان کا 11 سالہ بیٹا زخمی اور شوہر حمدی النجار تشویشناک حالت میں ہے۔
فلسطینی ذرائع اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، اسرائیلی فوج کی جانب سے شہری خاندانوں، طبی مراکز اور عملے کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو غزہ میں جاری نسل کشی کا حصہ ہے۔
اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کو غزہ پر یہ نسلی جارحیت شروع کی، جس کے دوران تقریباً 54,000 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔
جنوری میں اسرائیلی حکومت کو حماس کے ساتھ جنگ بندی کے ایک معاہدے پر مجبور ہونا پڑا، کیونکہ وہ فلسطینی مزاحمت کو ختم کرنے اور یرغمالیوں کی رہائی جیسے کسی بھی ہدف کو حاصل نہ کر سکی۔
جنگ بندی کا پہلا 42 روزہ مرحلہ اسرائیل کی جانب سے بار بار خلاف ورزیوں کے باوجود مکمل ہوا، لیکن دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات میں اسرائیل شرکت سے گریز کر رہا ہے۔

