برطانوی اپوزیشن لیڈر کیمی بیڈینوک کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ میں "برطانیہ کی طرف سے ایک نیابتی جنگ لڑ رہا ہے”، جب کہ انہوں نے محصور علاقے میں صیہونی حکومت کی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے انہیں "نسل کشی نہیں” قرار دیا۔
بیڈینوک نے یہ متنازع بیان اتوار کے روز اسکائی نیوز کو ایک انٹرویو میں دیا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ بنیامین نیتن یاہو کی زبان سے متفق ہیں تو کنزرویٹو پارٹی کی رہنما نے جواب دیا:
"میں یہاں اسرائیلی وزیرِ اعظم کی زبان کی نگرانی کرنے نہیں بیٹھی ہوں… اسرائیل برطانیہ کی طرف سے ایک نیابتی جنگ لڑ رہا ہے، جیسے یوکرین مغربی یورپ کی طرف سے روس کے خلاف لڑ رہا ہے۔ ہمیں سنجیدہ ہونا پڑے گا!”
انہوں نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت سے انکار کیا اور کہا کہ یہ نسل کشی نہیں ہے۔
بیڈینوک نے کہا:
"اسرائیل ایک جنگ لڑ رہا ہے۔ یہ میرا کام نہیں ہے کہ میں ان پر نگرانی کروں کہ وہ یہ جنگ کیسے لڑ رہے ہیں۔ یہ نسل کشی نہیں ہے، جیسا کہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں۔”
یہ بیان اس ہفتے فرانس، برطانیہ اور کینیڈا کے ایک مشترکہ اعلامیے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں اسرائیل سے غزہ میں "ناقابل برداشت” انسانی تکالیف کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تینوں ممالک نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے اپنی تازہ فوجی کارروائی بند نہ کی اور امدادی رسائی پر عائد پابندیاں ختم نہ کیں، تو "مزید ٹھوس اقدامات” کیے جائیں گے۔
اس اعلامیے کے بعد، برطانوی حکومت نے منگل کے روز اسرائیلی حکومت کے ساتھ آزاد تجارتی مذاکرات معطل کر دیے۔
اسکائی نیوز کے ٹریور فلپس نے جب ایک بار پھر برطانوی سیاستدان سے سوال کیا کہ "آج آپ اسرائیل کے کسی بھی اقدام پر تنقید کرتے نہیں دکھائی دے رہے،”
تو بیڈینوک نے کہا: "ایسا نہیں ہے۔ میں پہلے بھی کچھ باتوں پر تنقید کر چکی ہوں، لیکن اس وقت 58 یرغمالی ہیں جنہیں ابھی تک واپس نہیں لایا گیا۔”
بیڈینوک کا یہ بیان ایک حالیہ رپورٹ کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جس میں انکشاف ہوا ہے کہ ستمبر 2024 میں حکومت کی جانب سے اسرائیل کو اسلحے کی برآمدات معطل کرنے کے باوجود، برطانیہ اب بھی صیہونی حکومت کو ہتھیار اور F-35 لڑاکا طیاروں کے پرزے فراہم کر رہا ہے۔
تین مہم چلانے والے گروپوں کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق ان طیاروں کے پرزے — جو غزہ پر اسرائیل کی تباہ کن فوجی کارروائی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں — مارچ تک اسرائیلی قبضے والے علاقوں میں پہنچ چکے تھے۔
اسرائیلی کسٹمز ڈیٹا پر مبنی تحقیق کے مطابق برطانیہ سے 8,630 ہتھیاروں پر مشتمل اشیاء اسرائیلی مقبوضہ علاقوں میں بھیجی گئی ہیں، وہ بھی اسلحے کی برآمدات معطلی کے بعد۔
یہ ہتھیار ایک ایسے زمرے میں آتے ہیں جس میں "بم، دستی بم، تارپیڈو، بارودی سرنگیں، میزائل، اور اس سے ملتے جلتے جنگی ہتھیار اور ان کے پرزے” شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیادہ تر ترسیلات حکومت کی جانب سے برآمدات معطل کیے جانے کے بعد ہوئی ہیں۔
7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 53,939 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جب کہ 122,797 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے نومبر میں نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔
اس کے علاوہ اسرائیل کے خلاف غزہ پر جنگ کے حوالے سے بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) میں نسل کشی کا مقدمہ بھی جاری ہے۔

