یورپی یونین کے اعلیٰ ترین اسپورٹس کمشنر گلین میکالیف نے کہا ہے کہ وہ ممالک جو بنیادی انسانی اقدار کی خلاف ورزی کرتے ہیں، انہیں بین الاقوامی کھیلوں میں کوئی جگہ نہیں دی جانی چاہیے۔ ان کا یہ بیان غزہ پر اسرائیلی حملوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے اور یہ اشارہ دیتا ہے کہ اسرائیل پر ممکنہ پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
"کھیل امن اور انسانی حقوق کو فروغ دینے کا ذریعہ ہیں”
پولیٹیکو سے بات کرتے ہوئے، کمشنر میکالیف نے کہا کہ "ان ممالک کے لیے کھیلوں میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے جو ہماری اقدار کے شریک نہیں ہیں۔” ان کے مطابق، کھیل انسانی حقوق کے فروغ کا ذریعہ ہیں، اور اگرچہ عالمی کھیلوں کی تنظیمیں رسمی طور پر خودمختار ہیں، یورپی یونین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان امور پر بات کرے اور اپنا موقف واضح کرے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب غزہ پر اسرائیلی بمباری جاری ہے اور فلسطینی علاقوں میں انسانی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ پولیٹیکو کے مطابق، یہ تبصرہ یورپی یونین کے اس وسیع مباحثے کا حصہ تھا جس میں عالمی برادری، بالخصوص ثقافتی اور کھیلوں کے شعبوں سے اسرائیلی اقدامات پر ردعمل کے لیے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
یورپی دباؤ میں اضافہ
پولیٹیکو نے رپورٹ کیا ہے کہ یورپی کمیشن اور رکن ممالک پر شہری سماج اور قانون سازوں کی جانب سے دباؤ بڑھ رہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو روس کے ساتھ 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد کیا گیا تھا، جب روسی کھلاڑیوں اور ٹیموں کو اولمپکس اور فیفا جیسے بڑے مقابلوں سے معطل کر دیا گیا تھا۔
گزشتہ ہفتے، یورپی یونین کے بیشتر ممالک نے اسرائیل کے ساتھ سیاسی معاہدے پر نظرثانی کی حمایت کی، جب کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یورپی سفارتی وفد کے قریب اسرائیلی افواج کی جانب سے "انتباہی فائرنگ” کے اعتراف پر روم، پیرس اور دیگر دارالحکومتوں میں اسرائیلی سفیروں کو طلب کیا گیا۔
میکالیف نے کہا: "غزہ میں خونریزی جاری ہے، شہریوں کو اس کی قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔ یہ ایک انسانی المیہ ہے — بچے، نوجوان اور شہری بھوک اور پیاس سے مر رہے ہیں، انسانی امداد کی رسائی محدود ہے، جبکہ یہ امداد بڑے پیمانے پر بہم پہنچائی جانی چاہیے۔”
ثقافت اور کھیل دونوں زیرِ تنقید
کھیلوں کے علاوہ، یوروویژن گیتوں کے مقابلے میں اسرائیل کی شرکت پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اسپین کے وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز نے حال ہی میں کہا کہ "ہم ثقافت میں بھی دوہرے معیار کی اجازت نہیں دے سکتے” اور اسرائیل کو یوروویژن سے نکالنے کا مطالبہ کیا۔
2025 کے یوروویژن فاتح، آسٹریائی گلوکار "جے جے” نے بھی اسرائیلی قبضے کو نسل کشی کی جنگ قرار دیتے ہوئے، آئندہ مقابلوں میں اسرائیل کے اخراج کا مطالبہ کیا۔
میکالیف سے جب سانچیز کے بیان کی حمایت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: "یہ پلیٹ فارم ہماری اقدار کو فروغ دینے کے بڑے اسٹیج ہیں۔ ہمیں ان ممالک کو جگہ دینی چاہیے جو ان اقدار کے ساتھ کھڑے ہوں۔”
انہوں نے تصدیق کی کہ انہوں نے یوروویژن کے نگران ادارے، یورپی نشریاتی یونین، سے یہ مسئلہ اٹھایا ہے۔
انسانی المیہ اور بائیکاٹ کی بڑھتی ہوئی آوازیں
غزہ میں اسرائیلی بمباری سے ہلاک فلسطینیوں کی تعداد 53 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جب کہ رفح اور خان یونس جیسے شہر مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے ہیں۔ لاکھوں فلسطینی قحط، بیماری اور بے دخلی کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ اسپتال تباہ ہو چکے ہیں اور امدادی قافلے روکے جا رہے ہیں۔
میکالیف نے پولیٹیکو کو بتایا: "غزہ کی صورتِ حال بالکل صدمہ انگیز ہے۔ میرا پیغام واضح ہے: ہمیں کھیل کے ذریعے اپنی اقدار کا دفاع کرنا ہوگا — ہر ملک کے ساتھ۔”
یورپی یونین پر دہرا معیار اپنانے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے، کیونکہ روس پر فوری پابندیاں لگائی گئیں، جب کہ اسرائیل کو بین الاقوامی کھیلوں اور ثقافتی ایونٹس میں حصہ لینے کی اجازت حاصل رہی۔ پولیٹیکو کے مطابق، اگرچہ عالمی سطح پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی گئی ہے، مگر اب تک کوئی مربوط کارروائی نہیں کی گئی۔

