پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیآئرلینڈ اسرائیلی بستیوں میں تجارت پر پابندی لگائے گا

آئرلینڈ اسرائیلی بستیوں میں تجارت پر پابندی لگائے گا
آ

آئرلینڈ ایک تاریخی قانون سازی کی تیاری میں ہے جس کے تحت قابض فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ تجارتی تعلقات پر پابندی عائد کی جائے گی، جس کی بنیاد حالیہ غزہ جنگ میں اسرائیل کے جنگی جرائم کو قرار دیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ فنانشل ٹائمز نے دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، آئرلینڈ یورپی یونین کا پہلا ملک بننے جا رہا ہے جو باضابطہ طور پر ایسی قانون سازی کا آغاز کرے گا جو اسرائیلی کاروباروں کو قابض فلسطینی علاقوں میں کام کرنے سے روکے گی۔ آئرش حکومت نے اس اقدام کو غزہ میں جاری جنگ کی سنگینی اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے "جنگی جرائم” کے جواب میں ناگزیر قرار دیا ہے۔

آئرلینڈ کے وزیر خارجہ و تجارت سائمن ہیرس نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ یہ بل ایک ضروری قدم ہے کیونکہ "واضح طور پر جنگی جرائم ہو رہے ہیں، بچے بھوکے مر رہے ہیں اور خوراک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔” انہوں نے عالمی برادری کی خاموشی پر بھی تنقید کی، جس کی وجہ سے اسرائیل غزہ میں ظلم و ستم بلا روک ٹوک جاری رکھ سکا ہے۔

یہ قانونی اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب یورپی یونین کے بیشتر رکن ممالک نے اسرائیل کے ساتھ اپنے وسیع تر تجارتی معاہدے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

کیا خدمات بھی پابندی کی زد میں آئیں گی؟

فنانشل ٹائمز کے مطابق، قانون سازی کے حوالے سے ایک اہم بحث یہ ہے کہ آیا غیر مادی خدمات، جیسے سیاحتی پلیٹ فارمز اور آئی ٹی کمپنیاں، بھی پابندی کے دائرہ کار میں شامل کی جائیں گی یا نہیں۔

کرسچن ایڈ آئرلینڈ کے پالیسی اور ایڈووکیسی ہیڈ کونر او نیل، جنہوں نے 2018 میں ایک مشابہ بل تیار کیا تھا، کا کہنا ہے کہ "ایسی نوعیت کی پابندی یورپی سطح پر پہلے کبھی نہیں کی گئی۔” سابقہ بل ایک آزاد سینیٹر کی قیادت میں شروع ہوا تھا لیکن یورپی یونین کے تجارتی قوانین کی تشویشات کی وجہ سے رکا رہا۔

او نیل کے مطابق، مکمل پابندی میں نہ صرف پھل، کاسمیٹکس جیسے جسمانی اشیاء شامل ہونی چاہئیں بلکہ وہ خدمات بھی شامل ہونی چاہئیں جو کثیر القومی کمپنیاں قابض علاقوں میں فراہم کر رہی ہیں۔ ایک مثال Airbnb ہے، جس نے 2019 میں قابض علاقوں میں موجود پراپرٹیز کی فہرست سے نکلنے کا اعلان کیا تھا، مگر قانونی سمجھوتوں کے بعد اپنا فیصلہ واپس لیا تھا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ان بستیوں میں پراپرٹیز کی فہرست شامل کرنا قبضے کو جائز بنانے کے مترادف ہے۔ چونکہ Airbnb کا یورپی ہیڈکوارٹر ڈبلن میں ہے، اس لیے یہ نئی قانون سازی اس پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

آئرلینڈ پر بڑھتا ہوا دباؤ

گزشتہ کوششیں قانونی رکاوٹوں کی وجہ سے ناکام رہیں، لیکن موجودہ حکومت کا رویہ خاصا مختلف ہے۔ سائمن ہیرس نے غزہ میں انسانی بحران کی شدت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ "جیسے جیسے ہم امداد کی فراہمی میں رکاوٹ اور غزہ پر بمباری دیکھ رہے ہیں، یہ اقدام مناسب اور ضروری ہے۔”

اگرچہ وہ خدمات کو شامل کرنے پر کوئی پالیسی اختلاف نہیں رکھتے، لیکن قانونی مشورے نے انہیں اس حوالے سے محتاط کر دیا ہے۔ تاہم، آئرش قانونی ماہرین اس قانونی رائے کو چیلنج کرتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے 400 سے زائد علماء و وکلاء نے ایک کھلا خط جاری کیا جس میں کہا گیا کہ آئرش، یورپی اور بین الاقوامی قانون میں خدمات کو شامل کرنے کے لیے کوئی ناقابلِ عبور رکاوٹ نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپنی قانونی رائے شائع کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی رائے کا حوالہ

اس خط میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی گزشتہ سال جاری کردہ مشاورتی رائے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس میں کہا گیا کہ اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کو ایسے تجارتی یا سرمایہ کاری تعلقات کو روکنے کے لیے اقدامات کرنا چاہئیں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ یورپی یونین کے قانونی ماہرین کی ایک سابقہ رائے بھی اس موقف کی تائید کرتی ہے۔

اگر یہ بل مکمل طور پر منظور ہو گیا تو آئرلینڈ میں قائم کمپنیوں کو قابض علاقوں سے منسلک کاروبار کرنے سے روکا جائے گا، جس میں Airbnb جیسی ڈیجیٹل خدمات بھی شامل ہوں گی۔ تاہم، فلسطینی پیداوار مثلاً قابض علاقوں میں تیار شدہ زيتون کا تیل، جیسے "زیتون” کو اس قانون سے مستثنیٰ رکھا جائے گا۔

آئرلینڈ کی مرکزی بینک پر بھی نظر

آئرلینڈ کے مرکزی بینک کی بھی نگرانی ہو رہی ہے کیونکہ وہ اسرائیلی بانڈز کی فروخت کی نگرانی کرتا ہے۔ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت سن فین نے ایک علیحدہ بل کی حمایت کی ہے جس کا مقصد ان بانڈز کی خرید و فروخت کو روکنا ہے، کیونکہ ان کا خیال ہے کہ یہ جنگی مالی معاونت کا ذریعہ ہیں۔ یہ بل اگلے ہفتے پارلیمنٹ میں زیر بحث آئے گا۔

جون تک پارلیمنٹ میں متوقع بحث

سائمن ہیرس نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ بل جون تک پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے فنانشل ٹائمز کو بتایا، "ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا قدم اٹھائیں جو اثر انداز ہو، لیکن اگر یورپی یونین اجتماعی طور پر عمل کرے تو اس کا اثر کہیں زیادہ گہرا ہوگا۔”

اگرچہ آئرلینڈ اور بستیوں کے درمیان تجارتی حجم کم ہے، تقریباً 2020 سے 2024 کے دوران 685 ہزار یورو، جو پھل، فرنیچر اور کاسمیٹکس جیسی مصنوعات پر مشتمل ہے، اس قانون کی علامتی اہمیت پورے یورپ میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ اس اقدام کی حمایت کرنے والے آئرلینڈ کے 1980 کی دہائی میں عالمی اینٹی اپارتھائیڈ تحریک میں کردار کو بھی یاد دلاتے ہیں، جہاں آئرلینڈ کی پابندیاں بعد میں دیگر ممالک نے بھی اپنائیں۔

اسرائیلی حکومت کی تنقید

رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی حکومت نے حالیہ اقدامات کی شدید مذمت کی ہے، جو اتحادی ممالک نے غزہ میں اس کے فوجی آپریشن کے جواب میں کیے ہیں۔ قبضے کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کے رہنماؤں کو غزہ کی جنگ روکنے کے مطالبے پر تنقید کا نشانہ بنایا، اور کہا کہ وہ "انسانیت اور تاریخ کے غلط پہلو پر ہیں۔” اسرائیلی حکام اب بھی اپنے اقدامات کا موازنہ جنوبی افریقہ کے اپارتھائیڈ نظام سے کرنے کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین