حماس اور اسرائیلی قبضہ حکومت اس وقت ایک مجوزہ 60 روزہ جنگ بندی منصوبے کا جائزہ لے رہے ہیں، جسے فلسطینی نژاد امریکی ثالث ڈاکٹر بشارہ بحبح نے پیش کیا ہے۔ ایک سینئر فلسطینی رہنما نے المیادین کو اس بات کی تصدیق کی ہے۔
یہ منصوبہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی منظوری اور ہم آہنگی سے پیش کیا گیا ہے، جس میں غزہ کی تعمیر نو، مرحلہ وار قیدیوں کی رہائی، اور مستقبل کی سیاسی حکمرانی پر بات چیت کا لائحہ عمل شامل ہے۔ اس منصوبے میں امریکہ کو ضامن کا کردار دیا گیا ہے۔
منصوبے کے مطابق، جنگ بندی کے پہلے دن پانچ زندہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی، اور ساتویں دن مزید پانچ قیدیوں (ممکنہ طور پر فوت شدہ) کی حوالگی شامل ہے۔ دوسری طرف، حماس نے 70 دن کی جنگ بندی کی متبادل تجویز دی ہے، جس میں دو مرحلوں میں پانچ زندہ اور پانچ شہدا کی باقیات کی حوالگی شامل ہے۔
دونوں تجاویز میں انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی، یومیہ ٹرکوں کی انٹری، اور حملوں میں کمی جیسے نکات شامل ہیں۔ منصوبے کے تحت حماس اور دیگر فلسطینی گروہوں پر جنگ بندی کے دوران کسی بھی "جارحانہ اقدام” سے باز رہنے کی شرط بھی رکھی گئی ہے، جس میں اسلحے کی تیاری، اسمگلنگ اور استعمال شامل ہے۔
جنگ بندی کے دوران ہونے والی بات چیت دو اہم نکات پر مرکوز ہو گی:
- حماس کی طرف سے جنگ بندی کے دوران اور بعد میں اسرائیل پر حملے نہ کرنے کی ضمانت۔
- ایک طویل مدتی سیاسی فریم ورک کی تشکیل، جس میں ٹیکنوکریٹ حکومت کا قیام، غزہ کی تعمیر نو، اور فلسطینی قومی جدوجہد کے حل کے لیے مکمل روڈمیپ شامل ہوگا۔
فلسطینی رہنما کے مطابق، اسرائیل نے قیدیوں کی مجوزہ رہائی اور اس کے شیڈول پر اصولی طور پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے بھی مثبت ردِعمل کی توقع ظاہر کی گئی ہے، جس کا اعلان جلد متوقع ہے۔
ثالثی ٹیم، جس کی قیادت ڈاکٹر بشارہ بحبح اور امریکی ایلچی وٹکوف کر رہے ہیں، فریقین کے حتمی جوابات کی منتظر ہے۔

