روس کا کہنا ہے کہ صدر ولادی میر پیوٹن کا ہیلی کاپٹر اُس وقت یوکرین کے ایک بڑے ڈرون حملے کی "مرکزیت” میں آ گیا جب وہ رواں ہفتے کے آغاز میں کورسک کے دورے پر تھے۔ یہ انکشاف روسی فضائی دفاعی یونٹ کے ایک کمانڈر، یوری داشکن نے کیا ہے۔
صدر پیوٹن نے منگل کے روز کورسک ریجن کا دورہ کیا، جو رواں سال اپریل میں یوکرینی افواج سے مکمل طور پر واگزار کرایا گیا تھا۔
روسی ٹی وی چینل "روسیا 1” پر اتوار کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں داشکن نے بتایا کہ صدر کا ہیلی کاپٹر اس وقت "دشمن کے بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کو پسپا کرنے کے آپریشن کے مرکز” میں آ گیا جب وہ کورسک کے فضائی حدود سے گزر رہا تھا۔
ان کے مطابق، کیف نے صدر کی موجودگی کے دوران علاقے پر "بے مثال” ڈرون حملہ کیا، جس میں روسی فضائی دفاعی نظام نے 46 آنے والے فکسڈ وِنگ ڈرونز کو تباہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا، "میں اس امر پر زور دینا چاہتا ہوں کہ جب سپریم کمانڈر انچیف کا طیارہ کورسک کے علاقے سے گزر رہا تھا، اُس وقت دشمن کے حملوں کی شدت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔”
داشکن کے مطابق، علاقے میں تعینات فضائی دفاعی یونٹس کو بیک وقت دشمن کے فضائی حملوں سے نمٹنے اور صدر کے ہیلی کاپٹر کی فضائی سلامتی یقینی بنانے کی دوہری ذمہ داری نبھانا پڑی۔ "یہ مشن کامیابی سے مکمل کیا گیا۔ دشمن کے تمام ڈرونز کو مار گرایا گیا اور صدر کا ہیلی کاپٹر محفوظ رہا،” انہوں نے بتایا۔
واضح رہے کہ یوکرین نے حالیہ دنوں میں روس کے اندر ڈرون حملوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

