پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیاقوام متحدہ: پاکستان میں پناہ گزینوں کو فوری تحفظ درکار

اقوام متحدہ: پاکستان میں پناہ گزینوں کو فوری تحفظ درکار
ا

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین فیکٹ شیٹ کے مطابق پاکستان میں موجود ایک لاکھ 10 ہزار سے زائد پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی افراد کی حالت نہایت نازک ہے، جنہیں فوری عالمی تحفظ درکار ہے۔ ان میں کم از کم 8 فیصد افراد ایسے ہیں جن کے پاس پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈ موجود ہے، جو ان کی رجسٹریشن کا سرکاری ثبوت ہوتا ہے۔

یو این ایچ سی آر کے مطابق ان افراد میں بعض مخصوص یا مجموعی کمزوریاں پائی جاتی ہیں، جو انہیں تیسرے ممالک میں دوبارہ آبادکاری کے اہل بناتی ہیں۔ پاکستان میں یہ دوبارہ آبادکاری کا پروگرام 1980 کی دہائی سے جاری ہے، جس کے تحت اب تک 20 ہزار سے زائد کمزور پناہ گزینوں کو محفوظ ممالک میں منتقل کیا جا چکا ہے تاکہ وہ نئی اور محفوظ زندگی کا آغاز کر سکیں۔

افغانستان کے حالات اور عالمی دلچسپی

افغانستان میں 2021 میں سیاسی و سیکیورٹی تبدیلیوں کے بعد بین الاقوامی برادری نے افغان پناہ گزینوں کی دوبارہ آبادکاری میں نمایاں دلچسپی ظاہر کی، جس کے نتیجے میں پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کے لیے دوبارہ آبادکاری کے کوٹے میں اضافہ کیا گیا۔

امریکا اس عمل میں سب سے آگے رہا، جس نے 10 ہزار 823 افغان پناہ گزینوں کو قبول کیا۔ اس کے بعد آسٹریلیا (4,362)، کینیڈا (2,253)، برطانیہ (954)، نیوزی لینڈ (817)، ناروے (248)، سویڈن (182)، فن لینڈ (116) اور اٹلی (72) نے افغان پناہ گزینوں کو پناہ دی۔

پاکستان اور ایران سے واپسی کی نئی لہر

انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس (آئی ایف آر سی) کی رپورٹ کے مطابق صرف ایک ماہ کے دوران 3 لاکھ سے زائد افغان شہری پاکستان اور ایران سے یا تو رضاکارانہ طور پر واپس افغانستان گئے یا ملک بدر کیے گئے۔ پاکستان میں 2021 کے بعد کئی ممالک نے ’محفوظ راہداری‘ کے خصوصی پروگرام بھی متعارف کرائے تاکہ افغانستان میں ان کے سابقہ سفارتی معاونین کی منتقلی ممکن بنائی جا سکے۔ یو این ایچ سی آر نے وضاحت کی ہے کہ یہ پروگرام اس کے باقاعدہ آبادکاری فریم ورک کا حصہ نہیں ہیں۔

یو این ایچ سی آر کے مطابق پناہ گزینوں کی دوبارہ آبادکاری ایک منفرد اور پائیدار حل ہے، جس کے ذریعے خطرے سے دوچار افراد کو پناہ دینے والے ملک سے کسی تیسرے محفوظ ملک میں منتقل کیا جاتا ہے۔ ترجیحی بنیادوں پر ان افراد کو چنا جاتا ہے جو تشدد کا شکار رہے ہوں، طبی طور پر نازک حالت میں ہوں، خواتین و لڑکیاں ہوں یا خطرے میں گھرے بچے ہوں۔

انسانی بحران مزید شدت اختیار کر رہا ہے

آئی ایف آر سی نے افغانستان میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ تنظیم کے مطابق غربت، غذائی قلت، اور ناکارہ صحت کے نظام جیسے سنگین مسائل کی شکار افغان ریاست پر ان پناہ گزینوں کی واپسی ایک اضافی بوجھ بن چکی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ان میں بڑی تعداد پاکستان میں ’غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی‘ کے حالیہ منصوبے کے تحت واپس گئی ہے۔

ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ واپسی کی یہ لہر پہلے ہی کمزور بنیادی ڈھانچے پر مزید دباؤ ڈال رہی ہے، اور امدادی سرگرمیوں کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ گزشتہ ماہ، تنظیم نے بڑھتی ہوئی انسانی ضروریات کے پیش نظر عالمی سطح پر ہنگامی اپیل جاری کی، جس کے تحت 25 ملین سوئس فرانک کی فوری اور طویل مدتی امداد درکار ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق صرف اپریل میں پاکستان سے 1 لاکھ 44 ہزار 500 سے زائد افراد افغانستان واپس گئے، جن میں 29 ہزار 900 سے زائد کو باقاعدہ ملک بدر کیا گیا۔ اس دوران روزانہ کی بنیاد پر 4 ہزار سے 6 ہزار افراد کی واپسی ریکارڈ کی گئی۔

ایران میں بھی افغان باشندوں کی واپسی میں تیزی دیکھی گئی، جہاں قانونی تحفظ تک رسائی کی راہ میں نئی رکاوٹوں کے باعث 20 مارچ سے 30 اپریل کے درمیان 1 لاکھ 70 ہزار 200 افغان شہری وطن واپس لوٹے۔

پاکستان اور ایران سے اپریل کے مہینے میں مجموعی طور پر 3 لاکھ سے زائد افغان باشندوں کی واپسی نے افغانستان کے سرحدی علاقوں اور شہری مراکز پر شدید دباؤ پیدا کر دیا ہے، جو اس قدر وسیع نقل مکانی کو سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین