اسلام آباد:
پاکستان کو ڈیجیٹل جدت میں عالمی رہنما بنانے کی ایک انقلابی کوشش کے تحت، حکومت نے قومی سطح کے منصوبے کے پہلے مرحلے میں 2,000 میگاواٹ بجلی بٹ کوائن مائننگ اور مصنوعی ذہانت (AI) ڈیٹا سینٹرز کو فراہم کرنے کے لیے مختص کر دی ہے۔ یہ بات اتوار کو جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہی گئی۔یہ اقدام، جو وزارتِ خزانہ کے تحت کام کرنے والی پاکستان کرپٹو کونسل (PCC) کی قیادت میں کیا جا رہا ہے، ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد اضافی بجلی کو آمدن کا ذریعہ بنانا، ہائی ٹیک ملازمتیں پیدا کرنا، اربوں ڈالر کی غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری (FDI) کو متوجہ کرنا، اور حکومت کے لیے اربوں ڈالر کی آمدن پیدا کرنا ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ اسٹریٹجک قدم پاکستان کے ڈیجیٹل تبدیلی کے سفر میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جو اضافی توانائی کو جدت، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی آمدن میں تبدیل کر کے معیشت کی نئی راہیں کھول رہا ہے۔
پریس ریلیز میں کہا گیا:
"پاکستان جغرافیائی اور معاشی اعتبار سے منفرد مقام رکھتا ہے کہ وہ ڈیٹا سینٹرز کے لیے عالمی مرکز بن سکے۔ ایشیا، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک ڈیجیٹل پُل کے طور پر، پاکستان دنیا میں ڈیٹا کے بہاؤ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے لیے سب سے زیادہ اسٹریٹجک مقام پیش کرتا ہے۔”
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کرپٹو کونسل (PCC) کے قیام کے بعد سے ہی عالمی سطح پر بٹ کوائن مائننگ کرنے والی کمپنیوں اور ڈیٹا انفراسٹرکچر سے وابستہ اداروں کی جانب سے زبردست دلچسپی دیکھنے میں آئی ہے۔ متعدد بین الاقوامی کمپنیوں نے ابتدائی بات چیت کے لیے پاکستان کا دورہ بھی کیا ہے۔پریس ریلیز میں کہا گیا:
"اس تاریخی اعلان کے بعد آئندہ ہفتوں میں مزید عالمی اداروں کے دورے متوقع ہیں۔ پاکستان کی کم استعمال ہونے والی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو اب ایک قیمتی ڈیجیٹل اثاثے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔”
پریس ریلیز کے مطابق، مصنوعی ذہانت (AI) کے ڈیٹا سینٹرز اور بٹ کوائن مائننگ آپریشنز، جو مسلسل اور بھاری توانائی کے استعمال کے لیے جانے جاتے ہیں، اضافی بجلی کے لیے ایک مثالی استعمال کی صورت فراہم کرتے ہیں۔
"غیر استعمال شدہ توانائی، خاص طور پر وہ بجلی جو اپنی مکمل صلاحیت سے کم پر چلنے والے پلانٹس سے حاصل ہوتی ہے، کو دوبارہ استعمال میں لا کر پاکستان ایک دیرینہ مالی بوجھ کو ایک پائیدار اور آمدن پیدا کرنے والے موقع میں تبدیل کر رہا ہے،” پریس ریلیز میں کہا گیا۔پاکستان کرپٹو کونسل (PCC) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) بلال بن صقیب نے اس اقدام کی انقلابی نوعیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر مناسب ضابطہ کاری، شفافیت اور بین الاقوامی تعاون کو یقینی بنایا جائے تو پاکستان عالمی سطح پر کرپٹو اور مصنوعی ذہانت (AI) کا ایک بڑا مرکز بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے ضوابط ترقی کریں گے، "پاکستان براہِ راست ایک قومی والیٹ میں بٹ کوائن جمع کر سکتا ہے، جو کہ ایک انقلابی تبدیلی ہو گی — یعنی پاکستانی روپے میں بجلی بیچنے کے بجائے ڈیجیٹل اثاثوں کو معاشی استحکام کے لیے استعمال کرنا۔”
پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ پاکستان میں 4 کروڑ سے زائد کرپٹو صارفین کی موجودگی اسے ڈیجیٹل سروسز کے میدان میں ایک علاقائی رہنما بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
مقامی AI ڈیٹا سینٹرز کے قیام سے نہ صرف ڈیٹا خودمختاری سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کا ازالہ ہو گا بلکہ سائبر سیکیورٹی مضبوط ہو گی اور ڈیجیٹل سروسز کی فراہمی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔

