وزیراعظم شہباز شریف کی استنبول میں ترک صدر اردوان سے ملاقات — دوطرفہ تعاون مزید گہرا کرنے پر اتفاق
استنبول: وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے درمیان استنبول میں اتوار کے روز ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
یہ ملاقات وزیراعظم شہباز شریف کے ترکی کے دو روزہ سرکاری دورے کے دوران ہوئی۔ ملاقات میں علاقائی امن، پائیدار ترقی اور دونوں ممالک کے عوام کی مشترکہ خوشحالی کے لیے قریبی تعاون پر زور دیا گیا۔
وزیراعظم کے ہمراہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر بھی موجود تھے، جس سے دورے کی اہمیت اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران پاکستان کی حمایت کرنے پر ترک صدر رجب طیب اردوان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترکی نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
مزید برآں، وزیراعظم شہباز شریف 30 مئی تک ایران، آذربائیجان اور تاجکستان کے سرکاری دورے بھی کریں گے، جن کا مقصد خطے میں پاکستان کے سفارتی، اقتصادی اور تزویراتی روابط کو مزید فروغ دینا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ترک صدر اردوان سے ملاقات — وفد میں ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ بھی شامل، علاقائی امن اور ترقی کے لیے قریبی تعاون پر زور
استنبول میں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور ترکیہ علاقائی امن، پائیدار ترقی، اور اپنے عوام کی مشترکہ خوشحالی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔
وزیراعظم کے ہمراہ اعلیٰ سطحی وفد بھی موجود تھا، جس میں ڈپٹی وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیراعظم کے خصوصی مشیر سید طارق فاطمی، اور ترکیہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جُنید شامل تھے۔
ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان گہرے، تاریخی اور برادرانہ تعلقات کی دوبارہ توثیق کی گئی، جو باہمی اقدار، باہمی احترام، اور ترقی و خوشحالی کے مشترکہ وژن پر استوار ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے جنوبی ایشیا میں حالیہ کشیدگی کے دوران ترکیہ کی حکومت اور عوام کی غیر متزلزل حمایت پر دلی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ترکیہ کے اصولی مؤقف اور ترک عوام کی پاکستان کے ساتھ خیرسگالی اور حمایت کو پاکستان کے لیے تقویت اور حوصلے کا باعث قرار دیا۔
وزیراعظم نے ترک صدر کو یقین دلایا کہ پاکستان، ترکیہ کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور ہر سطح پر تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔
مارکۂ حق اور آپریشن بنیان المرصوص میں پاکستان کی فتح — وزیراعظم نے مسلح افواج کی قربانیوں اور عوام کے جذبۂ حب الوطنی کو خراجِ تحسین پیش کیا
وزیراعظم شہباز شریف نے صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کے دوران پاکستان کی مسلح افواج کے غیر متزلزل عزم، قربانی کے جذبے، اور پاکستانی قوم کے بے مثال جذبۂ حب الوطنی کو خراجِ تحسین پیش کیا، جس کا مظاہرہ "مارکۂ حق” اور "آپریشن بنیان المرصوص” کے دوران ملکی دفاع میں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ قومی یکجہتی اور قربانیاں ہی پاکستان کی عظیم کامیابی کی بنیاد بنیں۔
وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا، بالخصوص مشترکہ منصوبہ جات (joint ventures) اور دو طرفہ سرمایہ کاری میں اضافے کے ذریعے۔ انہوں نے قابلِ تجدید توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، دفاعی پیداوار، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، اور زراعت کو ایسے کلیدی شعبہ جات قرار دیا جن میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید بلند سطح تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ، انہوں نے 13 فروری 2025 کو اسلام آباد میں ہونے والے "اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک تعاون کونسل” (HLSCC) کے ساتویں اجلاس میں طے پانے والے فیصلوں پر عمل درآمد کا بھی جائزہ لیا۔
دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سالانہ دوطرفہ تجارتی حجم کو 5 ارب امریکی ڈالر تک لے جانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے، جیسا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلے طے پایا تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر اردوان کی ملاقات میں دوطرفہ امور کے ساتھ ساتھ علاقائی و عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال — کشمیر اور غزہ پر اصولی مؤقف کا اعادہ
استنبول میں وزیراعظم شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات میں دوطرفہ امور کے علاوہ اہم علاقائی اور عالمی معاملات پر بھی گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفادات کی حمایت پر مبنی اصولی مؤقف کا اعادہ کیا، جس میں مسئلہ جموں و کشمیر بھی شامل ہے۔
دونوں رہنماؤں نے غزہ میں جاری سنگین انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور فوری جنگ بندی اور متاثرہ فلسطینی عوام تک بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی پر زور دیا۔
سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی نیوز کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف اور صدر اردوان کے درمیان وفود کی سطح پر بھی ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، اور وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے شرکت کی۔
ملاقات میں دونوں ممالک نے 13 فروری 2025 کو اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک تعاون کونسل (HLSCC) کے ساتویں اجلاس میں کیے گئے اہم فیصلوں پر عمل درآمد کا بھی جائزہ لیا، اور ان پر پیشرفت کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
پاکستان اور ترکیہ کا دفاع، توانائی، اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق — صدر اردوان کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں پر زور
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے دفتر کے مطابق، پاکستان اور ترکیہ نے دفاع، توانائی، اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان گہرے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے ہیں، اور ترکیہ نے حالیہ بھارت-پاکستان کشیدگی کے دوران پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
صدر اردوان نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں کہا کہ تعلیم، انٹیلیجنس شیئرنگ، اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں یکجہتی اور تعاون بڑھانا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے، خصوصاً دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جنگ کے تناظر میں۔
ملاقات میں ترکیہ کے وزیر خارجہ حکان فیدان، وزیر دفاع یاشار گولر، اور انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ ابراہیم کالن بھی شریک تھے۔
دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا اور اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم کا استنبول آمد پر شاندار استقبال
وزیراعظم شہباز شریف جب استنبول پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ استنبول ایئرپورٹ پر ترک وزیر دفاع یاشار گولر، گورنر استنبول، پاکستان-ترکیہ کلچرل ایسوسی ایشن کے صدر، ترکیہ میں پاکستان کے سفیر، قونصل جنرل استنبول، ترک حکومت کے سینئر حکام اور پاکستانی سفارت کاروں نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔
وزیراعظم کے آئندہ دورے: ایران، آذربائیجان، تاجکستان
وزیراعظم شہباز شریف 30 مئی تک ایران، آذربائیجان، اور تاجکستان کے دورے بھی کریں گے، جہاں وہ ان ممالک کی قیادت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات، علاقائی و عالمی اہمیت کے امور پر وسیع تر مشاورت کریں گے۔
دورے کے دوران وزیراعظم ان برادر ممالک کی جانب سے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں پاکستان کی حمایت پر شکریہ بھی ادا کریں گے۔
وزیراعظم 29 اور 30 مئی کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں ہونے والی بین الاقوامی گلیشیئر کانفرنس میں بھی شرکت کریں گے، جس میں ماحولیاتی تبدیلیوں اور برفانی ذخائر کے تحفظ پر عالمی سطح پر غور کیا جائے گا۔

