غزہ میں، مجرمانہ گروہ کا سرغنہ یاسر ابو شباب اور اس جیسے دیگر افراد "امداد کی حفاظت” کے بہانے دوبارہ منظر عام پر آ گئے ہیں، جنہوں نے وردیاں پہن رکھی ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ غزہ میں داخل ہونے والی محدود انسانی امداد کی حفاظت کر رہے ہیں۔
قدس نیوز نیٹ ورک کے مطابق، ابو شباب نے "رفح میں اسرائیلی کنٹرول والے علاقے میں ایک مضبوط اڈہ قائم کر لیا ہے”، جو اب ایک "قتل گاہ” بن چکا ہے۔
یہ گروہ اسرائیلی فوجی تحفظ میں کام کر رہے ہیں اور معمول کے مطابق امدادی قافلوں کو لوٹتے ہیں، خاص طور پر مشرقی رفح اور کرم ابو سالم (کرم شالوم) جیسے علاقوں میں۔
ابو شباب مسلح گروہوں کا معروف سرغنہ ہے، جس کا تعلق داعش سے جوڑا جاتا ہے، اور وہ اسرائیلی تحفظ میں امدادی سامان کی لوٹ مار میں ملوث پایا گیا ہے۔ پچھلے سال، دی نیو عرب نے رپورٹ کیا تھا کہ ابو شباب سینکڑوں چوروں کے ساتھ مل کر کرم شالوم کراسنگ کے قریب اسرائیلی قابض افواج کے تحفظ میں کام کر رہا تھا، جو امدادی قافلوں کے داخلے کا اہم راستہ ہے۔ وہ ترابین نامی بدو قبیلے سے تعلق رکھتا ہے، جو سینا سے جنوبی غزہ اور نیگیو ریگستان تک پھیلا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک میمو میں اسے امدادی قافلوں کی منظم لوٹ مار کا “مرکزی بااثر کردار” قرار دیا گیا ہے۔ مشرقی رفح سے کارروائی کرتے ہوئے، ابو شباب خوراک اور دیگر ضروری اشیاء لے جانے والے ٹرکوں پر حملے کرنے والے مسلح غنڈوں کی قیادت کر رہا ہے۔
متعدد رپورٹس، بشمول ہاآرٹس اور واشنگٹن پوسٹ، اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ ان گروہوں کو اسرائیلی افواج کی موجودگی میں لوٹ مار کرتے دیکھا گیا، جبکہ فوج نے نہ تو مداخلت کی اور نہ ہی اسے روکا۔
ابو شباب نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر دوبارہ سرگرمی دکھائی ہے اور اپنی گینگ کی "ہم آہنگ کارروائیوں” پر فخر کا اظہار کیا ہے، جبکہ اس کے مسلح افراد امدادی ڈرائیوروں کو مار پیٹ کر ان سے "تحفظ کے عوض رقم” کا مطالبہ کرتے ہیں، جس سے بھوکی آبادی کی مشکلات مزید بڑھ رہی ہیں۔
دوسری طرف، اسرائیل نے باقاعدہ طور پر ان فلسطینی پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا ہے جو امداد کی حفاظت پر مامور تھے۔ عالمی دباؤ کے باوجود، صرف معمولی مقدار میں امداد داخل ہونے دی جا رہی ہے، جبکہ اسرائیل ان افراد پر بمباری کر رہا ہے جو اس امداد کی حفاظت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک طرف اسرائیل امداد کی لوٹ مار کو ممکن بناتا ہے، تو دوسری طرف اپنے پروپیگنڈے میں حماس کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا کر اپنی ذمہ داری سے توجہ ہٹاتا ہے اور غزہ میں افراتفری اور قحط کی صورتِ حال کو خود جنم دیتا ہے۔
— دی کریڈل

