امریکی پابندیوں اور ڈالر کی کمی کے باعث طالبان انتظامیہ روبل اور یوآن میں تجارت کے لیے سرگرم مذاکرات میں مصروف ہے۔
افغانستان میں طالبان حکومت نے روس کے ساتھ مقامی کرنسیوں میں تجارت کے آغاز پر پیش رفت کرتے ہوئے بات چیت کے نئے مرحلے میں داخل ہونے کا اعلان کیا ہے، جبکہ چین کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے مذاکرات جاری ہیں۔ یہ بات افغانستان کے قائم مقام وزیرِ تجارت حاجی نورالدین عزیزی نے جمعہ کے روز رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔
یہ اقدام افغانستان کے اقتصادی تعلقات میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہو گا، کیونکہ کابل امریکی پابندیوں اور ڈالر کی محدود دستیابی سے نکلنے کے لیے متبادل راستے تلاش کر رہا ہے۔
عزیزی نے بتایا کہ روس اور افغانستان دونوں نے تکنیکی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں جو روبل اور افغانی میں براہ راست لین دین کے طریقہ کار پر کام کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا: "ہم اس معاملے پر خصوصی مذاکرات میں مصروف ہیں، جن میں خطے اور دنیا کی معاشی صورتحال، پابندیاں اور افغانستان و روس کو درپیش چیلنجز زیرِ غور ہیں۔”
چین سے بھی یوآن میں لین دین کی تجویز پر بات چیت جاری
عزیزی نے تصدیق کی کہ چین کے ساتھ بھی اسی طرز کی تجاویز شیئر کی گئی ہیں، اور کابل میں افغان وزارتِ تجارت اور چینی سفارت خانے کے درمیان مشترکہ ورکنگ گروپ کے ذریعے بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے کہا، "ہم چین کے ساتھ بھی اس سمت میں قدم اٹھانا چاہتے ہیں۔” انہوں نے مزید بتایا کہ افغانستان کی چین کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 1 ارب ڈالر ہے، اور مشترکہ ٹیم یوآن میں براہِ راست ادائیگیوں پر غور کر رہی ہے تاکہ ڈالر پر انحصار کم کیا جا سکے۔
امریکی پابندیوں کے باعث افغان بینکاری نظام عالمی نیٹ ورکس سے کٹ گیا
2021 میں طالبان کے دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد، افغانستان کا بینکاری نظام بین الاقوامی مالیاتی نیٹ ورکس سے بڑی حد تک منقطع ہو چکا ہے۔ طالبان سے منسلک افراد اور اداروں پر عائد پابندیوں کے باعث مغربی امداد کا سلسلہ بند ہو گیا، اور 2024 کے اوائل سے ڈالر کی شکل میں آنے والی انسانی امداد میں بھی شدید کمی آ چکی ہے۔
عزیزی کے مطابق ڈالر کی آمد میں کمی کے باعث متبادل مالیاتی ذرائع کی شدید ضرورت پیدا ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا، "یہ ہمارے لوگوں اور ملک کے مفاد میں ایک بہترین متبادل ہے۔”
اگرچہ افغانستان کو عالمی مالیاتی نظام تک محدود رسائی حاصل ہے، مگر عزیزی نے کہا کہ افغانی کرنسی نسبتاً مستحکم رہی ہے، جس کا سہرا بیرون ملک مقیم افغانوں کی سرمایہ کاری میں دلچسپی اور حکومت کی بیرونی سرمایہ کاری بڑھانے کی کوششوں کو جاتا ہے۔
روس اور چین کے ساتھ معاہدے ڈالر پر انحصار کم کرنے کی علامت
افغانستان اس وقت روس کے ساتھ تقریباً 30 کروڑ ڈالر سالانہ تجارت کرتا ہے، جو زیادہ تر تیل، گندم اور صنعتی اشیاء پر مشتمل ہے۔ عزیزی نے عندیہ دیا کہ اگر مقامی کرنسیوں میں لین دین کی راہ ہموار ہوئی تو دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ کوشش ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب روس خود بھی عالمی سطح پر "ڈی ڈالرائزیشن” (ڈالر سے نجات) کے لیے سرگرم ہے۔ دسمبر میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر رکھنے کی منطق پر سوال اٹھاتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ یہ سیاسی بنیادوں پر ضبط کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے قومی کرنسیوں کے استعمال اور ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی تھی۔
افغانستان کے لیے اس حکمتِ عملی سے ہم آہنگی سیاسی اور عملی دونوں لحاظ سے فائدہ مند ہو سکتی ہے—یعنی ڈالر پر مبنی پابندیوں سے نجات اور علاقائی اتحادی ممالک کے ساتھ تجارت میں سہولت۔
کابل توانائی کی درآمدات اور سرمایہ کاری میں اضافہ چاہتا ہے
2022 سے اب تک افغانستان نے روس کے ساتھ گیس اور تیل کی درآمد کے کئی معاہدے کیے ہیں۔ اب کرنسی کی بنیاد پر تجارتی ادائیگیوں کا نیا نظام ان معاہدوں پر عملدرآمد کو آسان اور پابندیوں سے محفوظ بنا سکتا ہے۔
عزیزی نے چین اور روس کی کمپنیوں کے ساتھ ترقیاتی معاہدوں کی بھی مثال دی جو مقامی کرنسی میں لین دین سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، "یہ صرف کرنسی کا مسئلہ نہیں، بلکہ طویل المدتی معاشی خودمختاری کا ڈھانچہ بنانے کا سوال ہے۔”
اگرچہ روسی مرکزی بینک اور چینی وزارتِ خارجہ کی جانب سے فی الحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، لیکن طالبان حکومت مقامی کرنسیوں میں لین دین کو مالی خودمختاری کی طرف ایک اہم قدم قرار دے رہی ہے—ایسے نظام میں جہاں ڈالر طویل عرصے سے غالب رہا ہے۔

