غزہ کی سول ڈیفنس کے شعبۂ رسد و آلات کے ڈائریکٹر محمد المغیر نے بتایا ہے کہ امدادی عملہ اسرائیلی فوج کی جانب سے مسلسل حملوں کا نشانہ بن رہا ہے، جس کے باعث ان کی مشکلات کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔
انہوں نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم اب تک 1 لاکھ 70 ہزار سے زائد ہنگامی کالز پر کارروائی کر چکے ہیں، جن میں سے کئی زخمی یا شہید فلسطینیوں کے انخلا سے متعلق تھیں۔ ہمارے عملے کے 25 فیصد سے زائد ارکان شہید ہو چکے ہیں، جس سے ہمیں جسمانی تھکن کے ساتھ ساتھ شدید ذہنی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔”
المغیر نے بتایا کہ امدادی کارکن ملبے تلے دبے لوگوں کو نکالنے کے لیے صرف بیلچے، ہتھوڑے اور ننگے ہاتھ استعمال کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کے پاس بھاری مشینری یا سازوسامان موجود نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملوں کا نشانہ بننے والے زیادہ تر علاقے وہ رہائشی علاقے ہیں جنہیں اسرائیلی فوج نے اپنے جبری انخلا کے نقشے میں "ریڈ زون” قرار نہیں دیا تھا۔
"یہ حکمتِ عملی اسرائیلی فورسز نے اس لیے اپنائی ہے تاکہ زخمیوں کی جانیں بچ نہ سکیں اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھے۔ ہم نے ایسے 9,700 افراد کا اندراج کیا ہے جو ملبے تلے اپنی آخری سانس لے چکے کیونکہ ہم ان کی مدد نہ کر سکے۔”

